چین اور روس کی بڑھتی ہوئی پینگیں

چین کے صدر شت جن پنگ روس کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہXinhua

،تصویر کا کیپشنچین کے صدر شت جن پنگ روس کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں
    • مصنف, کیری گریسی
    • عہدہ, بی بی سی، چین ایڈیٹر

اگلے ماہ مغربی ممالک کے سربراہ دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی کامیابی کی 70 ویں برسی کے موقعے پر روسی صدر ولادی میر پوتن کی فوجی پریڈ میں واضح طور پر شرکت نہیں کریں گے۔

امریکی صدر براک اوباما اور یورپی یونین ریڈ سکوئر پر ہونے والی تقریب میں یوکرین میں روسی کے کردار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دور رہیں گے۔

دیگر آٹوکریٹس کے علاوہ شمالی کوریا کے کم جونگ ان، ازبکستان کے اسلام کریموف اور چین کے صدر شی جن پنگ مہمانانِ اعزاز ہوں گے۔

ماضی قریب میں صدر پوتن ’یورایشن وژن‘ کو پروموٹ کرتے رہے تھے، اس یونین کا احاطہ ’ڈبلن سے ولادی وستوک تک‘ ہو سکتا تھا۔

لیکن جیسے جیسے یوکرین کا تنازع بڑھ رہا ہے اور امریکہ کی جانب سے ایک سال سے روس کے خلاف پابندیاں عائد ہیں، ایسی صورت حال میں گذشتہ نصف صدی میں چین اور روس اتنا قریب پہلے کبھی نہیں آئے۔

چین نے یوکرین میں روسی مداخلت کی مذمت نہیں کی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنچین نے یوکرین میں روسی مداخلت کی مذمت نہیں کی

چین میں روسی سفارت کار آندرے ڈینیسوف کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ برس صدر پوتن اور صدر شی نے پانچ بار ملاقات کی۔ رواں برس بھی کم سے کم وہ اتنی ہی بار ملیں گے۔ اس سے سیاسی بات چیت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔‘

صدر شی جن پنگ اور صدر پوتن خود کو ’اچھا دوست‘ کہتے ہیں۔

دونوں رہنما خود کو طاقت ور رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو اپنے شاندار ماضی کی طرح تعمیرنو کریں گے۔

لیکن سفارت کار سے میری ملاقات سفارت خانے کے اسی کمرے میں ہو رہی تھی جہاں چیئرمین ماؤ سویت یونین کے نکیتا خروشیف سے سنہ 1959 میں ملے تھے، اور سفارت کار نے یہ امر تسلیم کیا کہ اس موقعے پر مسکراہٹوں اور نرم لہجے کے باوجود تعلقات میں کشیدگی متوقع تھی، جس کے بعد ماسکو اور بیجنگ تقریباً دو دہائیوں تک دشمن بنے رہے۔

چیئرمین ماؤ نے سویت یونین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کو بھانپ لیا تھا

،تصویر کا ذریعہunknown

،تصویر کا کیپشنچیئرمین ماؤ نے سویت یونین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کو بھانپ لیا تھا

تاہم آج کل بیجنگ کی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کو نظریے سے زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔

چین کی سفارت کار ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات بڑھتی ہوئی خلیج کو چین کے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یوکرین کے تنازعے نے یہ نادر موقع فراہم کیا ہے۔

چین کا دعویٰ ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیادی اصول خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت پر مبنی ہیں۔

اگر یہی اصول چین کی خارجہ پالیسی چلا رہے ہیں تو روس کی جانب سے یوکرین میں کارروائیوں پر اس کی مذمت کی توقع کی جا سکتی ہے۔

تاہم سب اہم پہلو یہ ہے کہ دوستوں کو سرعام تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

نکیتا خروشیف چین کو دشمن سمجھتے تھے

،تصویر کا ذریعہunknown

،تصویر کا کیپشننکیتا خروشیف چین کو دشمن سمجھتے تھے

یوکرین اور روس کے دومیان بیجنگ نے کسی ایک کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی ماہ روسی ذرائع ابلاغ میں چین کے وزیرخارجہ کا یہ بیان شائع کیا گیا تھا: ’یوکرین کے تنازعے پر چین کا موقف غیرجانبدار ہے۔ شروع سے ہی ہم اس بار پر زور دے رہے ہیں کہ اس کا سیاسی طور پر حل پیش کیا جائے۔‘

درحقیت یوکرین کے تنازعے کے باعث چین کو اپنے قومی مفادات کو بڑھانے کا موقع ملا ہے۔

یورپ میں دوست ممالک کی برہمی سے ماسکو کو مشرق میں دوستوں اور منڈیوں کی تلاش تھی اور گذشتہ سال مئی میں اس نے چین کے ساتھ چار کھرب ڈالر پر مشتمل 30 سالہ گیس معاہدہ کیا ہے۔

چین کو قدرتی ذرائع کے لیے روس کی ضرورت ہے اور اب روس اس پروجیکٹ میں شامل ہے۔

صدر شی جن پنگ سٹریٹیجک فوجی مہمات کے علاوہ سٹریٹیجک اقتصادی مہمات کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں وسطی ایشیا میں سلک روڈ اقتصادی بیلٹ اوراس کے متوازی جنوب مشرقی ایشیا میں میری ٹائم سلک روٹ شامل ہیں۔

امریکہ کو چین اور روس کی بڑھتی ہوئی قربت سے بظاہر تشویش نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکہ کو چین اور روس کی بڑھتی ہوئی قربت سے بظاہر تشویش نہیں ہے

دوسری جانب صدر اوباما کا ٹرانس پیسیفک پروجیکٹ (ٹی پی پی) واشنگٹن کی کانگریسی سیاست کی نذر ہوگیا ہے۔

اوباما انتظامیہ کے پاس وقت بہت کم ہے اور اس کی توجہ اب صدارتی انتخابات کی طرف مرکوز ہو رہی ہے۔ علاقائی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ چین کی طرف سے پیش کردہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

تاہم امریکہ کو چین اور روس کی بڑھتی ہوئی قربت سے بظاہر تشویش نہیں ہے۔

امریکی صدر اوباما نے گذشتہ اگست میں جریدے اکنامسٹ کو بتایا تھا: ’روس سمجھتا ہے کہ وہ ژانوس کی طرح مشرق اور مغرب دونوں جانب دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ صدر پوتن روس میں ایک گہرے داغ کی نمائندگی کرتے ہیں اور شاید یہ طویل المدت تناظر میں روس کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔۔۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اس کو نقطہ نظر کو اس کے تناظر میں سمجھنا اہم ہے۔‘