سعودی شہزادے کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہو گی

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں حکام نے ایک سعودی شہزادے کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
28 سالہ مجید عبدالعزیز السعود کو مبینہ طور پر ایک خاتون کو سیکس پر مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ مبینہ طور پر گذشتہ ماہ بیورلی ہلز میں ان کے پرتعیش مکان میں پیش آیا تھا۔
شہزادے پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی ایک ملازم پر جنسی تشدد کیا تھا۔ لیکن استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مجید السعود کے خلاف کافی ثبوت موجود نہیں۔
سعودی شہزادے کے وکیل ایلن جیکسن نے کہا کہ ان کے موکل بے قصور ہیں اور کہ یہ کیس ان سے ’پیسے اینٹھنے کی ترکیب‘ تھی۔
شہر کے مقامی انتظامیہ کی ترجمان جین رابنسن نے کہا ہے کہ اب سعودی شہزادے کے خلاف صرف ممکنہ طور پر نامناسب حرکات کے الزام کے تحت یہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں چار مبینہ متاثرین تھیں اور ان میں سے ایک نے تفتیش کے دوران حکام سے تعاون نہیں کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق اس واقعے کے بارے میں سعودی شہزادے کے ہمسائے نے اس وقت پولیس کو آگاہ کیا جب اس نے ایک زخمی خاتون کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے دیکھا جو شہزادے کے مکان کی دیوار پھلانگنے کی کوشش کر رہی تھی۔
واقعے کے دو دن بعد مجید السعود کے مکان میں کام کرنے والی تین ملازماؤں نے ان پر جنسی تشدد، غیر قانونی قید اور جان بوجھ کر جذباتی تکلیف پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔







