جرمنی میں پناہ گزینوں کی حمایتی سیاست دان پر حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی کے شہر کولون میں میئر کے انتخاب کی ایک مضبوط امیدوار کو پناہ گزینوں کے مخالف شخص نے چاقو کے وار سے زخمی کر دیا ہے۔
سیاست دان ہنغیتر ہکر میئر کا انتخاب آزاد امیدوار کے طور پر لڑ رہی ہیں اور انھیں جرمن چانسلر اینگلا مرکل کی حکمراں جماعت سی ڈی یو کی حمایت حاصل تھی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور ملک کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی کا مخالف تھا اور اس نے ہنغیر کی گردن پر چاقو سے حملہ کر کے انھیں زخمی کر دیا۔
<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کے شیلٹرز پر حملوں میں تین گنا اضافہ: جرمنی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151009_germany_refugees_attacks_increase_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> جرمنی کو اس سال ’15 لاکھ پناہ گزینوں کا سامنا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151005_germany_migrants_asylum_ak" platform="highweb"/></link>
پولیس کے مطابق 58 سالہ ہنغیر کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ اس حملے میں دیگر تین افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس نے 44 سالہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے جو جرمن شہری ہیں اور کولون شہر کے ہی رہائشی ہیں۔
اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے سینیئر پولیس افسر نوبٹ ویگنر کے مطابق حملہ آور غیر ملکیوں کے بارے میں پالیسی کا مخالف تھا اور اسی وجہ سے اس نے ہنغیر پر حملہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس افسر کے مطابق حملہ آور کا یہ انفرادی فعل تھا اور اس سے پہلے ان کا پولیس میں جرائم سے متعلق کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔
جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کے ایک ترجمان کے مطابق انھوں نے اس واقعے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
<link type="page"><caption> خیال رہے کہ یورپ حالیہ کئی مہینوں سے پناہ گزینوں کے بحران سے دوچار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151005_germany_migrants_asylum_ak" platform="highweb"/></link> ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شام کے فساد اور غربت سے بھاگ کر وہاں پہنچے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق رواں برس 15 لاکھ پناہ گزین جرمنی پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
جرمنی میں حکومت کی پناہ گزینوں سے متعلق نرم پالیسی کی وجہ سے پناہ گزینوں کے کیمپوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
جرمنی کی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال پناہ گزینوں کے لیے شیلٹرز پر 500 حملے ہوئے ہیں جو 2014 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔
جرمنی کے وزیر داخلہ ٹومس میزیئر کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں سے دو تہائی حملے مقامی آبادی نے کیے ہیں جن کا ماضی میں کوئی جرائم کا ریکارڈ نہیں ہے۔







