مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پولیس کی چیک پوسٹ قائم

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے عرب علاقوں میں ایک بڑا سکیورٹی آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یہ آپریشن فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی باشندوں پر پستول اور چاقو سے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔
پولیس نے جبلِ میکابر کے داخلی راستے کو بند کر دیا ہے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے تین فلسطینیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے منگل کو تین اسرائیلیوں کو قتل کیا تھا۔
سکیورٹی کو مزید بڑھانے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں فوج کی تعیناتی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ فوج نے مشرقی یروشلم میں فلسطینوں کے علاقے میں قائم چیک پوسٹ سنبھال لی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ اس چیک پوسٹ کے قریب سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی کابینہ نے بگڑتی صورت حال کے پیش نظر حملوں کو روکنے کے لیے پولیس کو یروشلم کے بعض علاقوں کو سیل کرنے کا اختیار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کو اب یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ اسرائیلیوں پر حملہ کرنے والے فلسطینوں کے مکانوں کو کچھ ہی دنوں میں مسمار کر دیں اور انھیں مکان دوبارہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
ان افراد کے خاندانوں سے یروشلم میں رہنے کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔
حالیہ دو ہفتوں کے دوران فلسطینیوں کی جانب سے فائرنگ اور چاقو سے وار کرنے کے واقعات میں آٹھ اسرائیلی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ان پرتشدد واقعات میں کم سے کم 18 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
بدھ کو پولیس کی ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ چیک پوسٹ فلسطینیوں کے گاؤں کے باہر مشرقی یروشلم کے قریب ہے۔‘
سکیورٹی کے حوالے سے نئے اقدامات کا اعلان اسرائیل کے وزیراعظم بن یامن نتن یاہو کے دفتر سے کیا گیا ہے۔
خبر رساں نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے: ’سلامتی سے متعلق کابینہ نے شدت پسندی کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جھڑپوں کی صورت میں یا پھر تشدد کے لیے اشتعال انگیزی برتنے پر پولیس کو علاقے کو سیل کر نے یا کرفیو نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔‘
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے حالیہ تشدد کی لہر کے دوران بیشتر حملے مشرقی یروشلم کے عرب علاقوں سے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حملہ کرنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کے خلاف کیے گئے ہیں۔
اس موقعے پر انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس سے کہا: ’جھوٹ بولنا اور اشتعال دلانا چھوڑ دو۔‘
فلسطینی صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت اور یہودی آباد کاروں کی جارحیت تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔
اسرائیلی پولیس نے دو فلسطینی حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملہ آوروں کو اس وقت ہلاک کیا جب انھوں نے بس میں سوار مسافروں پر چاقو سے حملہ کیا اور فائرنگ کی۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے علاقے میں ایک اور فلسطینی شہری فوج کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوا ہے۔







