’سیسل کے قاتل پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا‘

زمبابوے میں حکام کا کہنا ہے کہ ’سیسل‘ نامی مشہور شیر کو ہلاک کرنے والے امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔
حکام کے مطابق والٹر پامر نے شکار کرنے کے لیے قانونی اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر والٹر پامر نے رواں برس جولائی میں ’سیسل‘ کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا تاہم ان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا تھا کہ انھوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔
زمبابوے کی ماحولیات کی وزیر کا کہنا ہے کہ امریکہ ڈاکٹر والٹر پامر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ ان کے پاس ’تمام دستاویزات ٹھیک‘ تھیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت شکار کے لائسینسز شائع کرنے کے حوالے سے ازسرِ نو جائزہ لے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ڈاکٹر والٹر پامر کا نام میڈیا میں آنے کے بعد امریکی ریاست مینیسوٹا میں مظاہرین نے ان کے ڈینٹل کلینک اور گھر کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ان کا کلینک بند رہا تھا، تاہم دو ماہ کے بعد اب وہ اپنے کلینک میں واپس آ گئے ہیں۔
55 سالہ امریکی ڈاکٹر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہوانگے نیشنل پارک کی حدود سے باہر شیر کے تیر سے شکار کے لیے 50 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔
ڈاکٹر پامر نے گذشتہ ماہ پہلی بار خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا تھا کہ اگر انھیں ’سیسل‘ کے بارے میں معلوم ہوتا تو وہ اسے کبھی ہلاک نہ کرتے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہماری شکاری پارٹی میں سے کسی کو سیسل کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔‘
والٹر کے مطابق انھیں شیر کا شکار کرنے کے بعد ہی پتا چلا کہ جس جانور کو انھوں نے ہلاک کیا وہ ملک کا مشہور شیر تھا۔
امریکی ڈاکٹر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ سیسل کو ہلاک کرنے کی وجہ سے ان کی بیوی اور بیٹی کو سوشل میڈیا پر بار بار دھمکیاں دی گئیں۔







