’سیسل‘ کے شکاریوں کی ضمانت پر رہائی

گرفتار شکاریوں کو 15 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگرفتار شکاریوں کو 15 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے

زمبابوے میں ’سیسل‘ نامی مشہور شیر کو غیر قانونی طور پر ہلاک کرنے کے الزام میں زیرِ حراست دو ماہر شکاریوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی حراست میں موجود ماہر شکاریوں تھیو برونک ہورسٹ اور ہانسٹ نڈلوو پر الزام ہے کہ انھوں نے مطلوبہ اجازت نامے کے بغیر غیر قانونی طور پر شکار کیا۔

دونوں شکاری بدھ کو عدالت میں پیش ہوئے اور انھیں ایک ہزار ڈالر فی کس کے عوض ضمانت پر رہا کرتے ہوئے پانچ اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر والٹر پامر والٹر کے تیر سے گھائل ہونے کے بعد شیر کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور اس کے بعد اس کی کھال اور سر اتار لیا گیا تھا۔

ڈاکٹر والٹر پامر والٹر پر الزام عائد نہیں کیا گیا تھا اور وہ زمبابوے سے واپس امریکہ چلے گئے ہیں۔

ڈاکٹر پامر کا کہنا ہے کہ انھوں نے شیر کی تلاش کے لیے ماہر گائیڈز کی مدد لی تھی اور اس سلسلے میں ضروری اجازت نامے بھی ان کے پاس تھے۔ تاہم ان کا کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا ہدف کونسا شیر تھا اور انھیں سیسل کو نشانہ بنانے کا افسوس ہے۔

والٹر کے مطابق انھیں شیر کا شکار کرنے کے بعد ہی پتا چلا کہ جس جانور کو انھوں نے ہلاک کیا ہے وہ ’سیسل‘ تھا

،تصویر کا ذریعہThomas Joyce

،تصویر کا کیپشنوالٹر کے مطابق انھیں شیر کا شکار کرنے کے بعد ہی پتا چلا کہ جس جانور کو انھوں نے ہلاک کیا ہے وہ ’سیسل‘ تھا

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر والٹر کا ریکارڈ مجرمانہ ہے۔ انھوں نے سنہ 2006 میں وسکنسن میں کالے ریچھ کو ممنوعہ علاقے میں ہلاک کیا تھا۔ اس جرم کے باعث ان پر تین ہزار امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

’سیسل‘ کو زمبابوے میں اس کی سیاہ ایال (گردن کے بال) کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔

زمبابوے میں جنگلی حیات کی ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ والٹر نے ہوانگے نیشنل پارک کی حدود سے باہر شیر کے تیر سے شکار کے لیے 50 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

منگل کو ایک بیان میں والٹر نے کہا تھا کہ ’میں نے شکار کو قانونی بنانے کے لیے اپنے مقامی پیشہ ور گائیڈز کی مہارت پر بھروسہ کیا تھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الحال ان سے زمبابوے یا امریکہ میں حکام نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور اگر ایسا ہوا تو وہ مکمل تعاون کریں گے۔

13 سالہ شیر ’سیسل‘ زمبابوے کے مشہور ہوانگے نیشنل پارک میں آنے والے سیاحوں میں بہت مقبول تھا۔

خیال ہے کہ اسے یکم جولائی کو ہلاک کیا گیا تاہم اس کا ڈھانچہ کئی دن بعد ہی دریافت ہوا تھا۔

13 سالہ شیر ’سیسل‘ زمبابوے کے مشہور ہوانگے نیشنل پارک میں آنے والے سیاحوں میں بہت مقبول تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن13 سالہ شیر ’سیسل‘ زمبابوے کے مشہور ہوانگے نیشنل پارک میں آنے والے سیاحوں میں بہت مقبول تھا

جسٹس فار سیسل کے نام سے ایک آن لائن پٹیشن بنائی گئی ہے جس پر اب تک چار لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کر لیے ہیں۔اس میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خطرے سے دوچار جانوروں کے شکار کا پرمٹ جاری کرنا بند کیا جائے۔

سیسل کے بچوں کو خطرہ

زمبابوے کنزرویشن ٹاسک فورس کے مطابق شکاریوں نے اسے رات کو نیشنل پارک کی حدود سے باہر نکالنے کے لیے ممکنہ طور پر کسی جانور کو بطور چارہ استعمال کیا۔

والٹر پامر نے سیسل کو تیر سے زخمی کیا اور ان کی شکار پارٹی کو 40 گھنٹے بعد ہی اس کا دوبارہ پتہ چل سکا اور تب اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

زمبابوے کنزرویشن ٹاسک فورس کے مطابق شکاریوں نے اس کے گلے میں موجود اس پٹے کو بھی تباہ کرنے کی کوشش کی جس سے اس کی موجودگی کا پتہ حکام کو چلتا تھا تاہم وہ ناکام رہے۔

ٹاسک فورس کے سربراہ جونی رودریگز کے مطابق سیسل ایک انتہائی خوبصورت جانور تھا جو کسی کو پریشان نہیں کرتا تھا۔

ٹاسک فورس کے سربراہ جونی رودریگز کے مطابق سیسل ایک انتہائی خوبصورت جانور تھا جو کسی کو پریشان نہیں کرتا تھا

،تصویر کا ذریعہPaula French

،تصویر کا کیپشنٹاسک فورس کے سربراہ جونی رودریگز کے مطابق سیسل ایک انتہائی خوبصورت جانور تھا جو کسی کو پریشان نہیں کرتا تھا

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب پارک میں شیروں کے گروپ کا نیا سربراہ سیسل کے چھ بچوں کو بھی ہلاک کر دے گا تاکہ سیسل کی مادہ کو اپنی جانب متوجہ کر سکے۔

جونی رودریگز نے کہا کہ ’جنگل کا یہی نظام ہے۔ یہاں قدرت اپنا راستہ خود بناتی ہے۔‘

خیال رہے کہ زمبابوے بھی ان افریقی ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی حیات کو غیرقانونی شکاریوں کی وجہ سے معدومی کا خطرہ ہے۔