’امریکہ سیسل کے قاتل کو ہمارے حوالے کرے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
زمبابوے کے ماحولیات کے وزیر نے کہا ہے کہ زمبابوے میں ’سیسل‘ نامی شیر کو ہلاک کرنے والے امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کو زمبابوے کے حوالے کیا جانا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کی حوالگی کی کوشش اس لیے کی بھی کی جا رہی ہے تاکہ انھیں ’اپنے غیر قانونی عمل کا قصور وار ٹھہرایا جا سکے۔‘
امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر والٹر پامر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شیر کی تلاش کے لیے ماہر گائیڈز کی مدد لی تھی اور اس سلسلے میں ضروری اجازت نامے بھی ان کے پاس تھے۔
والٹر نے ہوانگے نیشنل پارک کی حدود سے باہر شیر کے تیر سے شکار کے لیے 50 ہزار امریکی ڈالر ادا کیے تھے۔
والٹر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ شکار قانونی تھا اور وہ ’سیسل‘ نامی مشہور شیر کو شکار کرنا ممنوع ہے کہ بارے میں آگاہ نہیں تھے۔
خیال رہے کہ ’سیسل‘ کو زمبابوے میں اس کی سیاہ ایال (گردن کے بال) کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPaula French
ہرارے میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زمبابوے کی وزیرِ ماحولیات کا کہنا تھا کہ ہم اپنی جنگلی حیات کو ان جیسے منظم گروہوں سے بچانا چاہتے ہیں جبکہ کچھ افراد خفیہ طور پر زمبابوے کے قوانین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کوئی بھی یہ نیتجہ اخذ کر سکتا ہے کہ امریکی شہری ڈاکٹر والٹر پامر کے پاس زمبابوے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ تھا جس سے مستقبل میں زمبابوے اور امریکہ کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زمبابوے کی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ شیر کو تیر سے ہلاک کرنا زمبابوے کے شکاری قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
زمبابوے میں پولیس نے اس شیر کی ہلاکت کے معاملے میں دو افراد کو حراست میں لیا تھا۔
پولیس نے اس معاملے میں ایک پیشہ ور شکاری اور ایک فارم کے مالک کو حراست میں لے کر ان کے خلاف غیرقانونی شکار کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
پیشہ ور شکاری اور ایک فارم کے مالک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کو انٹرنیٹ پر ’سیسل‘ کو ہلاک کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
امریکی ریاست مینیسوٹا جہاں ڈاکٹر والٹر پامر کا ڈینٹل کلینک اس واقعہ کے بارے سے بند ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ وہ ڈاکٹر والٹر کو زمبابوے کے حوالے کرنے والی پٹیشن پر غور کرے گا جس میں دس ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی شخص کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کا ردِعمل دینا امریکی محکمۂ انصاف کا کام ہے۔







