یِنگ یِنگ اب ماں نہیں بنےگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہانگ کانگ کی دیو قامت پانڈا ینگ ینگ جو ملک میں پہلی بار ایک دیوقامت پانڈے کے بچے کو جنم دینی والی تھی، کا اسقاط حمل ہو گیا ہے۔
ستمبر کے آخر میں یِنگ یِنگ کے حاملہ ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد سے اُس کے حمل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا تھا۔
تاہم جب منگل اور بدھ کو یِنگ کا الٹرا ساؤنڈ کیاگیا تو یہ بات سامنے آئی کہ دیوقامت پانڈا کے رحم میں موجود بچے کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے۔
اوشین پارک کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اُنھیں بہت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ وہ چار سال سے اِن کوششوں میں مصروف تھے کہ یِنگ یِنگ حاملہ ہو جائے۔
اوشین پارک کے ڈاکٹر لی فو کونگ کا کہنا ہے کہ سکین میں ’واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ یِنگ یِنگ کے رحم میں موجود بچے نے بڑھنا چھوڑ دیا ہے اور بچے کے ڈھانچہ مزید الگ نہیں ہے جس سے اِس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ زندہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔‘
اِس سال کے آغاز میں دس سالہ یِنگ یِنگ کو قدرتی جنسی عمل اور مصنوعی طریقے سے حاملہ کیا گیا۔ تاہم اوشین پارک کا عملہ حمل کے کامیاب طریقہ کار میں غیر یقینی کا شکار ہے۔
پارک کے عملے کا کہنا ہے کہ سو کلو وزن کی مادہ پانڈا ’متجسس، فعال اور ہوشیار ہے۔‘ مادہ پانڈا کو پانچ مختلف موقعوں پر دو نر پانڈوں کے ساتھ قدرتی طور پر ملایا گیا اور اِس میں سے ایک کوشش کو کامیاب تصور کیا گیا تھا۔
لیکن کامیاب حمل کے امکان کو بہتر بنانے کے لیے یِنگ یِنگ کو مصنوعی طریقے سے حاملہ بنایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانڈا کی افزائش نسل مشکل عمل ہے اور مادہ پانڈا سال میں ایک بار تولید کے قابل ہوتی ہیں۔
چین کے دیو قامت پانڈوں پر تحقیق کرنے والے ادارے میں کام کرنے والے ڈاکٹر وانگ چینگ ڈونگ کا کہنا ہے کہ دیو قامت پانڈوں میں حمل کے آخری ایام میں رحم میں بچے کو دوبارہ سے جذب کرنا بھی عام بات ہے: ’خاص طور پر پہلی بار ماں بننے والوں میں کیونکہ اُنھیں اِس عمل کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔‘
عام طور پر حمل کی مدت پانچ ماہ ہوتی ہے اور ایک یا دو بچے پیدا ہوتے ہیں۔
اوشین پارک کا عملہ وولنگ کے ماہرین کے ساتھ ساتھ حمل کے دوران اکٹھا کیے گئے مواد کا قریب سے جائزہ لےگا تاکہ دیو قامت پانڈوں کے اسقاط حمل کے بارے میں زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔







