یورپی یونین پناہ گزینوں کے متنازع کوٹے پر متفق

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی یونین کے وزرائے داخلہ یورپ میں داخل ہونے والے ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کی آباد کاری کے معاہدے پر کثرتِ رائے سے رضا مند ہو گئے ہیں۔
وسطی یورپ کی بعض ریاستیں یورپی یونین کے اس مطالبے کی مخالفت کر رہی ہیں جس میں اُن سے پناہ گزینوں کے ایک مختص کوٹے کو منظور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کے کوٹے پر اختلافات کے خاتمے کی کوشش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/09/150922_migrants_quota_talks_hk" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’یورپی سرحدوں کو پناہ گزینوں سے خطرہ ہے‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/09/150921_migrants_crisis_eu_meeting_zh" platform="highweb"/></link>
اس معاہدے کے تحت تارکین وطن کو اٹلی، یونان اور ہنگری سے دیگر یورپی ممالک میں بسایا جائے گا۔
اس معاہدے کے تحت تارکین وطن کے لازمی کوٹے کی رومانیہ، چیک ریپبلک، سلوواکیا اور ہنگری نے مخالفت کی تاہم 28 رکنی یورپی یونین کے دیگر ممالک کی اکثریت نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ فن لینڈ واحد ملک جو اس معاہدے پر ہونے والی ووٹنگ میں شامل نہیں تھا۔
بدھ کو برسلز میں یورپی یونین کے رہنما اس معاہدے کی توثیق کریں گے۔
بی بی سی کے یورپی امور کے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ تارکین جیسے مسئلے پر یہ انتہائی غیر معمولی ہے کہ اس کو متفقہ طور پر منظور کیے جانے کی بجائے اکثریت رائے سے منظور کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ پناہ گزین ان پانچ لاکھ افراد میں شامل ہیں جو رواں برس سمندر کے راستے یورپ پہنچے ہیں۔ جرمنی نے اس سال دس لاکھ افراد کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
لاکھوں پناہ گزینوں کی آمد کے باعث یورپی یونین میں گہرے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد شام سے آئی ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق جن پناہ گزینوں کو ترجیحی بنیادوں پر آباد کیا جائے گا ان میں شام، اریٹریا اور عراق کے باشندے ہیں۔
ان ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کو ہنگری، یونان اور اٹلی کی ریاستوں سے منتقل کیا جائے گا جہاں سے یہ یورپ میں داخل ہوئے تھے۔







