روس کی شام کو حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی

،تصویر کا ذریعہEPA
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے شام میں جاری جنگ اور اس میں روس کے کردار پر بڑھتی ہوئی تشویش کے باوجود شام کی فوجی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ولادی میر پوتن نے دوسرے ممالک پر بھی روس کے ساتھ مل کر فوجی تکنیکی مدد بھیجنے کے لیے زور دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد ’بہت زیادہ ‘ہو سکتی تھی اگر روس شامی حکومت کی مدد نہ کرتا۔
امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی شامی صدر بشار الاسد کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شامی صدر کی حمایت کرنا اس تنازع کو طول دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
تاہم سنہ 2011 سے شروع ہونے والی اس خونی خانہ جنگی کے بعد سے ماسکو صدر اسد کا اہم اتحادی رہا ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ شام بھیجے جانے والے فوجی ساز و سامان کا مقصد خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کی مدد کرنا ہے۔
منگل کو صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’ہم شدت پسندوں کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے فوجی تکنیکی امداد بھیجی ہے اور بھیجتے رہیں گے اور ہم دوسرے ممالک پر بھی زور دیتے ہیں کے وہ اس مقصد میں ہمارا ساتھ دیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاجکستان میں دفاعی اجلاس میں بات کرتے ہوئے پوتن کا کہنا تھا کہ ’شام میں حالات ’لیبیا سے بھی زیادہ خراب‘ ہو سکتے تھے اگر روس شام کی اعلیٰ قیادت کا ساتھ نہ دیتا۔‘
دوسری جانب یورپی ممالک شام میں جاری اس تنازع کی وجہ سے ملک چھوڑ کر ان کی سرحدوں پر آنے والے ہزاروں افراد سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
صدر پوتن کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں امریکہ نے شام کے ساحلی شہر لاتکیا کے قریب روسی نقل و حرکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گذشتہ روز پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگوں اور آلات کی آمد و رفت سے ایسا لگتا ہے کہ روس ’اگلے محاذ پر فضائی اڈا‘ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔‘







