روس بشار الاسد کی مدد کے لیے کتنا تیار؟

روس شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے چند غیر ملکی اتحادیوں میں سے ایک ہے

،تصویر کا ذریعہNAVAL News

،تصویر کا کیپشنروس شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے چند غیر ملکی اتحادیوں میں سے ایک ہے
    • مصنف, جوناتھن مارکس
    • عہدہ, نامہ نگار سفارتی امور، بی بی سی

حال ہی میں شام میں روسی ساختہ نئی بکتر بند گاڑیاں دیکھی گئیں۔

روس نے اس قسم کی گاڑیاں ماضی میں اپنے اتحادیوں کو فراہم نہیں کیں اور ان کی شام میں موجودگی سے لگتا ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کو لاحق خطرات کے تناظر میں ماسکو وہاں فوجی توازن کو درست کرنا چاہتا ہے۔

20 اگست کو بھاری ہتھیاروں سے لیس روسی بحریہ کے جہاز نیکولائی فلچنکوف کو آبنائے باسفورس سے گزرتے دیکھا گیا تھا۔

جہاز کی تصاویر کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے اس میں ٹرک اور بکتر بند گاڑیاں ہیں اور جہاز کے بارے میں خیال ہے کہ یہ شام جا رہا ہے۔

اس کے بعد شامی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں بظاہر نئی بی ٹی آر- 82 اے کو مشقیں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ دیگر تصاویر میں روس کی ٹیگر فوجی یوٹیلیٹی گاڑیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔ ایک بار پھر یہ اسی قسم کی گاڑیاں ہیں جو اس سے پہلے شام کو کبھی برآمد نہیں کی گئی ہیں۔

لیکن لندن میں سٹریٹیجک سٹڈیز کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ کے ماہر جوزف ڈیمسی کا تصاویر کے بارے میں کہنا ہے کہ ’اگر یہ مستند ہیں تو یہ شام میں بی ٹی آر-82 اے اور ٹیگری کی موجودگی کا ٹھوس ثبوت ہیں۔‘

شام کو ان ہتھیاروں کی ترسیل سے ہر قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

نئی طرز کی ہی گاڑیاں کیوں؟ پرانی کیوں نہیں۔ جو شامی اس سے پہلے بھی چلاتے رہے ہیں روس نے پرانی گاڑیوں کے مقابلے میں یہ کیوں دیں۔ جیسے کہ بی ایم پی ٹریکڈ جنگی گاڑیاں جن کے بارے میں شامی فوج اچھی طرح واقف ہے۔

2013 کے آخر اور 2014 کے آغاز میں شام کو کم تعداد میں بی ٹی آر-80 بکتربند گاڑیاں ملی تھیں لیکن بی ٹی آر- 82 اے زیادہ جدید، بہت زیادہ مختلف اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ پہلی کھیپ ہے؟ اور اس نظام کو حقیقت میں چلا کون رہا ہے؟

روس شام کے صدر کے چند غیر ملکی اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ وہ طویل عرصے سے شام کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے اور موجودہ بحران میں روس نے شام کی حکومت کو اہم سفارتی مدد بھی فراہم کی ہے۔

روس نے 2013 میں ہونے والے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے تحت اسد حکومت نے اپنے کیمیائی ہتھیار دیے۔

روس نے طویل عرصے سے شام کے شہر ترطوس کے ساحل پر ایک چھوٹا بحری اڈہ قائم کر رکھا ہے۔ یہ خطے میں روس کے اثرورسوخ کو ظاہر کرتا ہے جو سرد جنگ کے زمانے میں اپنے عروج پرتھا۔

تاہم شام کے بحران نے روس کو فکرمند کر دیا ہے اور وہ مغرب کی طرح ہی خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والے مذہبی شدت پسندوں کے اثر کے بارے میں بھی فکرمند ہے۔

اس بحران نے روس کو شامی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے متعدد بار اس بات کا اظہار کیا ہے کہ بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنا کسی بھی امن معاہدے کی شرط نہیں ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ ’بالکل غیر حقیقی اور نقصان دہ ہے۔‘

روس اس پر بضد ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف اور ’دہشتگردی کے خلاف وسیع اتحاد‘ کے لیے کام کررہا ہے۔

لیکن روس کے لیے اہم بات یہ ہے کہ بشار الاسد کی حکومت ضرور باقی رہے چاہے خود ان کی ذاتی قسمت کچھ بھی ہو۔

حالیہ کچھ ہفتوں میں روس نے شام کے لیے سفارتی کوششوں پر کافی توجہ مرکوز کی ہے جس کی مثال ایرانی حکام اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے بات چیت ہے۔

لیکن اسی دوران زمینی صوتحال صدر اسد کے حق میں نہیں جا رہی، ان کے مخالف علویوں کے گڑھ میں پہنچ چکے ہیں اور وہ ساحلی دوآبے کے علاقے سے مشرق میں بحیرۂ روم اور زمین پر لاذقیہ اور تارطوس کی طرف سے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اس غیر یقینی کی صورتحال میں روس کے عظیم کردار کے بارے میں افواہیں پھر گردش کر رہی ہیں۔

روس نے حال ہی میں شام کو اعلیٰ درجے کے طیاروں کی فراہمی کی تردید کی ہے۔

چند اسرائیلی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ روس دولت اسلامیہ کے خلاف اپنے جنگی جہاز استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے اور اگر شامی حکومت کی حالت نہیں بدلی تو وہ زمین پر اپنا بڑا کردار بھی ادا کر سکتا ہے لیکن یہ ابھی قیاس آرائی سے کچھ بڑھ کر ہی ہے۔

روس نے خود بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں کے لیے طیارے بھجوائے گئے ہیں۔

تجزیہ کار رولسن پوکوف کا جو روس کی ہتھیاروں کی صنعت کے ترجمان ہیں، کہنا ہے کہ شامی فوج کو جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ’گولہ بارود، ہلکے ہتھیار، کمیونیکیشن اور ڈرون‘ ہیں۔

لیکن روسی بحریہ کے جہاز نکولائی فلچنکوو کا اشارہ یہی ہو سکتا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو روس ایک اچھی پیشکش کرنے کے لیے تیار ہے۔