’شام میں باغیوں نے جسر الشغور پر قبضہ کر لیا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام میں حکومت مخالف جنگجوؤں نے شمال مغربی شہر جسر الشغور کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
ادلب صوبے کا یہ وہ آخری قصبہ ہے جو حکومت کے کنٹرول میں ہے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پر قبضے سے حکمران اشرافیہ کے مرکز میں داخل ہونے کا راستہ مل سکتا ہے۔
شدت پسند قوتیں جن میں القاعدہ کے اتحادی النصرا فرنٹ بھی شامل ہے، نے جمعرات سے حملے شروع کر دیے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز سے شدید لڑائی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے ثنا کا کہنا ہے کہ حکومتی طیاروں نے دہشت گردوں کے گروہوں پر بمباری کی ہے اور جنگجوؤں کی درجنوں گاڑیوں کو تباہ کر دیاہے۔
لندن میں قائم انسانی حقوق کے ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز وہاں سے فرار ہو گئی تھیں جبکہ آس پاس کے علاقوں میں لڑائی جاری تھی۔
سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق 60 کے قریب حکومت حامی جنگجوؤں کی لاشیں گلیوں میں پڑی ہوئی ہیں۔
دولتِ اسلامیہ کے منظر عام پر آنے سے قبل النصرا فرنٹ کو سب سے مضبوط عسکریت پسند باغی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باغیوں کےگزشتہ ماہ ادلب کے شہر پر حملے کے بعد سے سرکاری فورسز حلب اور حما صوبے کے درمیان ترسیل کے راستے کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بی بی سی کے مشرقِ وسطی میں تجزیہ کار سبیسٹین یوشر کا کہنا ہے کہ اگر باغی ادلب صوبے سے حکومت کو مکمل طور پر ہٹانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے لاذقیہ کا راستہ کھل جائے گا۔
لاذقیہ کا شہر اقلیتی فرقے علویوں کا علاقہ ہے جس سے شامی صدر بشارالاسد کا بھی تعلق ہے اب تک جنگ کی زد میں نہیں آیا ہے۔
جسر الشغور کا قصبہ موجودہ تنازعے کے آغاز سے اب تک حکومت کے زیرِ قبضہ رہا ہے۔







