شام میں روس کی ’عسکری سرگرمیوں‘ پر امریکی تشویش

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ نے خانہ جنگی کا شکار ملک شام میں روس کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر شام میں حکومت مخالف باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں 47 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
جمعے کو امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر ہونے والی کئی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روس شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو جدید فوجی سازوسامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ وہاں اپنے مزید عسکری مبصر بھی بھیج رہا ہے۔
ان رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ روس کے یہ اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ شام کی جنگ میں براہِ راست حصہ لینے کی تیاری کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ اُشر کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے سنیچر کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروو سے ٹیلیفون پر گفتگو میں انھیں امریکی تشویش سے آگاہ کیا اور کہا اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے تنازع کی شدت میں اضافہ ہوگا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق جان کیری نے یہ بھی کہا کہ تنازع بڑھنے سے معصوم انسانی جانوں کا زیاں اور پناہ گزینوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کے اس ممکنہ اقدام سے شام میں امریکہ کی زیرِ قیادت اس اتحاد سے بھی روسی فوج کے تصادم کا خدشہ پیدا ہو جائے گا جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ شام کے مسئلے پر بات چیت رواں ماہ نیویارک میں جاری رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اوباما انتظامیہ کے نامعلوم حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ روس نے اپنی ایک عسکری ایڈوانس ٹیم شام بھیج دی ہے اور ایک ایسے شامی اڈے پر سینکڑوں افراد کی عارضی قیام گاہیں بھی تیار کی ہیں جہاں فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے کا موبائل نظام بھی لے جایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان انتظامات سے لگتا ہے کہ روس شام کی مرکزی بندرگاہ لاذقیہ کے قریب واقع اس اڈے پر ایک ہزار عسکری مبصر یا فوجی بھیج سکتا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے جمعے کو کہا تھا کہ شام میں براہِ راست عسکری کارروائیوں کی بات قبل از وقت ہے تاہم روس شامی حکومت کو مستقل سازوسامان اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق بظاہر روس کمزور ہوتی ہوئی شامی حکومت اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی طاقت کے بارے میں فکرمند ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ امریکہ کو شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں قدم جمانے والی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں بشار الاسد کی حکومت سے تعاون کرنا چاہیے۔
شام میں جاری تنازع میں روس اور امریکہ مخالف قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ روس جہاں شامی صدر کا حامی ہے وہیں امریکہ چاہتا ہے کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہو جائے۔
شام کا تنازع 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کی صورت میں شروع ہوا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ تنازعہ کثیرالجماعتی ہونے کے ساتھ خونی شکل بھی اختیار کر گیا جس میں اب تک ڈھائی لاکھ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کی لڑائی
دریں اثنا برطانیہ سے کام کرنے والی سیریئن آبزرویٹري فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شام میں سٹریٹجک اہمیت کے شہر ماریا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور بشار الاسد کی مخالف فوج کے درمیان لڑائی میں دولتِ اسلامیہ کے 27 شدت پسند اور 20 باغی مارے گئے ہیں۔
ماریا وہ علاقہ ہے جسے ترکی اور امریکہ دولتِ اسلامیہ سے آزاد ایک ’محفوظ علاقہ‘ بنانا چاہتے تھے۔
گزشتہ ماہ یہ الزام لگائے گئے تھے کہ ماریا پر حملے کے دوران دولتِ اسلامیہ نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔







