’شام میں ڈرون حملے میں برطانوی شدت پسند ہلاک‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں رقہ کی قریب کیے جانے والے ڈرون حملے میں جنید حسین کی ہلاکت ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہunknown

،تصویر کا کیپشنامریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں رقہ کی قریب کیے جانے والے ڈرون حملے میں جنید حسین کی ہلاکت ہوئی تھی

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک برطانوی شدت پسند شام میں ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔ ہلاک ہونے والے شدت پسند کو ’اہم سائبر جہادی‘ کہا گیا ہے۔

20 سالہ برطانوی شہری جنید حسین کمپیوٹر ہیکر تھے اور وہ سنہ 2013 میں برمنگھم سے شام چلے گئے تھے۔ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے منسلک ’اہم ہدف‘ تھے

امریکہ نے ان کی ہلاکت کو دولت اسلامیہ کے خلاف اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین ماییکل میک کول کا کہنا ہے کہ ان کے ہلاکت نے ’ایک واضح پیغام‘ دیا ہے۔

’ہمیں مستقبل میں سازشی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے ہوشیاری اور انٹیلی جنس قائم رکھنے کی ضرورت ہے، اور بالآخر ہم اس دہشت گرد گروہ کو ختم کر سکیں گے۔‘

اس سے قبل برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم شام میں اتحادی فضائی حملے میں داعش سے منسلک برطانوی شہری کی ہلاکت کے اطلاعات کے بارے میں آگاہ ہیں۔‘

خیال رہے کہ جنید حیسن ایک ماہر کمپیوٹر ہیکر تھے، اور سنہ 2012 میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ذاتی روابط افشا کرنے اور انسداد دہشت گردی ہاٹ لائن پر غلط اطلاعات دینے پر چھ ماہ جیل میں گزار چکے تھے۔

جنید حسین کمپیوٹر ہیکنگ گروپ ٹیم پوائزن کے بھی اہم رکن تھے

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنجنید حسین کمپیوٹر ہیکنگ گروپ ٹیم پوائزن کے بھی اہم رکن تھے

جون میں دی سن اخبار کا کہنا تھا کہ جنید حیسن یوم افواج کے موقع پر لندن میں ہونے والی پریڈ کے دوران دولت اسلامیہ کی جانب پریشر ککر دھماکے کے منصوبے سے بھی منسلک تھے۔

جنید حسین نے سابق پنک موسیقار سلی جونز سے شادی کی تھی اور وہ کمپیوٹر ہیکنگ گروپ ٹیم پوائزن کے بھی اہم رکن تھے۔

اس ہیکنگ گروپ کی جانب سے 1400 مرتبہ برطانیہ اور دنیا بھر میں ذاتی معلومات افشا کرنے کی ذمہ داری قبول کی جاچکی ہے۔

اس گروپ کی جانب سے عالمی سیاست دانوں، اہم بین الاقوامی کاروباروں اور ایک بین الاقوامی امدادی ادارے پر ہیکنگ حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں رقہ کی قریب کیے جانے والے ڈرون حملے میں جنید حسین کی ہلاکت ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ برطانوی سکیورٹی حکام کے مطابق 700 کے قریب برطانوی شہری شام گئے، اور ان میں سے نصف کے قریب واپس لوٹ آئے ہیں۔