دولتِ اسلامیہ کے ’نائب‘ کمانڈرامریکی حملے میں ہلاک

امریکہ کا کہنا ہے کہ فضیل احمد الحیالی کی ہلاکت سے سے دولتِ اسلامیہ کے مالی معاملات اور میڈیا آپریشنز متاثر ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنامریکہ کا کہنا ہے کہ فضیل احمد الحیالی کی ہلاکت سے سے دولتِ اسلامیہ کے مالی معاملات اور میڈیا آپریشنز متاثر ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ شمالی عراق میں امریکی فوج کے ایک فصائی حملے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے نائب رہنما فضیل احمد الحیالی ہلاک ہو گئے ہیں۔

جمعے کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ دولتِ اسلامیہ کے نائب رہنما کی ہلاکت گذشتہ منگل کو اس وقت ہوئی جب موصل میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ فضیل احمد الحیالی کی ہلاکت سے سے دولتِ اسلامیہ کے مالی معاملات اور میڈیا آپریشنز متاثر ہوں گے۔

خیال رہے کہ عراق اور شام میں امریکی سربراہی میں اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران دولتِ اسلامیہ کے کئی رہنما ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کی کونسل کے رکن نیڈ پرائس کے مطابق فضیل احمد الحیالی عراق اور شام میں ہتھیاروں، گاڑیوں اور شدت پسندوں کی ترسیل میں اہم معاون تھے۔

عراق کے شہر موصل میں وہ جون 2014 میں حملے سمیت گذشتہ دو سال سے وہ تنظیم کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے بارے میں رواں سال مارچ میں یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ وہ ایک حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔

اتحادی افواج کے حملوں سے کرد فوج کو شمالی عراق کے بہت سے علاقے دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے واپس چھڑوانے میں مدد ملی ہے۔

امریکی قومی سلامتی کی کونسل کے رکن نیڈ پرائس کا کہنا تھا دولت اسلامیہ کے میڈیا امور کے نگران ابو عبداللہ بھی حملے میں ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ مئی میں قبل اسلامیہ میں نائب کمانڈر عبدالرحمن مصطفی بھی ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ البغدادی کی بمیاری میں انھوں نے تنظیمی امور سھنبال رکھے تھے۔

امریکی حکام نے رواں سال جون میں بتایا تھا کہ اتحادی فوجوں نے ایک سال کے عرصے میں دولتِ اسلامیہ کے دس ہزار سے زائد جنگجؤوں کو ہلاک کیا ہے۔