ننگرہار میں ڈرون حملہ، ’دولتِ اسلامیہ کے رہنما شاہد اللہ شاہد ہلاک‘

تحریکِ طالبان چھوڑنے والوں میں شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل تھے

،تصویر کا ذریعہ1

،تصویر کا کیپشنتحریکِ طالبان چھوڑنے والوں میں شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل تھے

افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں ڈرون حملے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے رہنما شاہد اللہ شاہد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان کی انٹیلیجنس کے مطابق شاہد اللہ شاہد کو ملک کے مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

شاہد اللہ شاہد اس سے قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان تھے۔ انھوں نے پچھلے سالے اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق شاہد اللہ شاہد ’دولت اسلامیہ‘ میں تیسرے بڑے رہنما تھے۔

بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شاہد اللہ شاہد کی قسمت کا فیصلہ اس وقت ہو گیا تھا جب ایک ویڈیو میں وہ ’دولت اسلامیہ‘ کے دیگر ریکروٹوں کے ہمراہ دکھائی دیے گئے۔

اس ویڈیو میں دکھائی دینے والے دو شدت پسند پہلے ہی ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

شاہد اللہ شاہد کی ہلاکت اس وقت ہوئی ہے جب افغانستان میں طالبان اور ’دولت اسلامیہ‘ کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پچلے سال اکتوبر میں شاہد اللہ شاہد سمیت پانچ رہنماؤں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس وقت کہا گیا تھا کہ منحرف ہونے والے افراد کو ملا عمر کی امارت پر شک تھا۔

جن طالبان رہنما دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوئے ہیں ان میں ہنگو اور پشاور کے علاوہ اورکزئی، کرّم اور خیبر ایجنسی کے رہنما شامل ہیں۔

تحریکِ طالبان چھوڑنے والوں میں شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما کے مطابق سب سے زیادہ نقصان اورکزئی ایجنسی کے امیر سعید خان کے جانے کا ہوا ہے۔