شام جانے کا شبہ، برطانوی خاتون ہوائی اڈے سے گرفتار

برطانیہ میں پولیس نے ایک خاتون کو تین بچوں سمیت شام جا کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہونے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔
لیسٹر سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کو ویسٹ مڈلینڈز کی پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے یونٹ نے برمنگھم کے ہوائی اڈے سےگرفتار کیا۔
انھیں دہشت گردی کے ایکٹ کی دفعہ پانچ کے تحت پکڑا گیا ہے۔
تیس سالہ خاتون کے گھر کی تلاشی لی جا رہی ہے اور ان سے منسلک ایک اور جگہ پر بھی تلاشی کا کام ہو رہا ہے۔
مڈلینڈز پولیس کا کہنا ہے کہ افسران دیگر اداروں کے ساتھ مل کر خاتون کے بچوں کی بہبود کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں۔
پولیس افسران کے پاس خاتون سے ابتدائی تفتیش کے لیے زیادہ سے زیادہ چھتیس گھنٹے ہیں جس کے بعد یا تو اسے باقاعدہ الزام عائد کرنا ہوگا، یا اسے رہا کرنا ہوگا یا ضمانت پر چھوڑنا ہوگا یا پھر عدالت سے رجوع کر کے خاتون کو حراست میں رکھنے کے لیے مزید مہلت مانگنی ہوگی۔
ایک اندازے کے مطابق جب سے شام میں جنگ کا آغاز ہوا ہے، برطانیہ کے تقریباً چھ سو شہریوں نے وہاں کا سفر کیا ہے تا کہ وہ لڑائی میں شریک ہو سکیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے آدھے افراد برطانیہ واپس آ چکے ہیں۔
اکثر برطانوی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کا سفر اس لیے کیا کہ وہ شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑیں۔ دولتِ اسلامیہ کے پاس شام کے ایک بڑے علاقے کا کنٹرول ہے جس میں ترکی اور شام کی سرحد کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام میں چار برس سے جاری لڑائی کے دوران دو لاکھ سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ لڑائی شام کے صدر بشارالاسد کی حامی فوج اور ان کی حکمرانی کی مخالف قوتوں کے درمیان ہے جن کے ساتھ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند بھی شامل ہوگئے ہیں۔







