سات مبینہ جنگجو سڈنی ایئر پورٹ پر روک لیے گئے

،تصویر کا ذریعہbbc
آسٹریلوی حکام نے سات نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے سے اس خدشہ کے پیشِ نظر روک دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ جا کر جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ان نوجوانوں کو رواں ماہ کے آغاز میں سڈنی ایئرپورٹ پر روکا گیا تھا۔
ملک کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ سات شہری ’شدت پسند‘ گروہ کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا کے قانون کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائیوں میں سے کسی میں حصہ لینا یا شدت پسندوں کی معاونت کرنا جرم ہے۔
جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ حالیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک شدت پسند گروہ کا لبھانے کا عمل اب بھی جاری ہے۔
اطلاعات ہیں کہ حکومت اس حوالے سے ممید تفصیلات جاری نہیں کرے گی۔
وزیراعظم نے ڈیلی ٹیلی گراف کی خبر پر اپنا ردِعمل دے رہے تھے جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک مردوں کا ایک گروہ شام اور عراق جنگ کا حصہ بننے کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان نوجوانوں پر یہ بھی الزام ہے کہ ان کے پاس کیش کی صورت میں ایک خطیر رقم موجود تھی۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا شدت پسند مسلمانوں جن میں مشرقِ وسطیٰ میں جہاد کر کے لوٹنے والے بھی شامل ہیں کی جانب سے کسی بھی حملے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ ہے۔
گدشتہ سال دسمبر میں حکومت نے اپنے شہریوں کا شام کے صوبے رقعہ کی جانب سفر ممنوع قرار دیا تھا۔ یہ صوبہ شدت پسند تنظئم دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ ہے۔ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس علاقے میں جانے والے شخص دس سال قیدہو سکتی ہے۔







