دولتِ اسلامیہ کا ’ساتھ‘ دینے والے آسٹریلوی شہری کی واپسی

،تصویر کا ذریعہ
نرسنگ کے شعبے سے وابستہ آسٹریلوی شہری ایڈم بروکمین جن کا موقف ہے کہ انھیں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے لیے کام کرنے پر مجبور کیا، وہ پہلے آسٹریلوی شہری ہیں جو وطن واپس لوٹ کر دہشت گردی کے نئے قانون کے تحت تفتیش کا سامنا کریں گے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بروکمین نے جو کہ مذہب اسلام اختیار کر چکے ہیں بتایا ہے کہ وہ فلاحی کاموں کے لیے شام گئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کو وطن واپس پہنچیں گے۔
یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ شاید ایڈم بروکمین کو سڈنی پہنچنے پر گرفتار بھی کر لیا جائے۔
میلبرن سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ بروکمین نے فیئر فیکس میڈیا کو مئی میں بتایا تھا کہ وہ سنہ 2014 میں شام کی خانہ جنگی میں زخمی ہونے والے افراد کی طبی مدد کے لیے وہاں گئے تھے تاہم دولتِ اسلامیہ نے مدد کے لیے زبردستی ان کی خدمات حاصل کیں۔
بعد میں جب وہ شدت پسندوں کا دل جیتنے میں کامیاب ہوگئے تو دسمبر 2014 میں وہاں سے ترکی کی جانب فرار ہوئے اور ترک حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کی پرتشدد کارروائیوں اور انتہاپسندانہ اقدامات کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور ایسا ہونا اچھا ہے۔
بیرونی جنگجو
آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے مطابق ترکی اور شام کی مقامی انتظامیہ کے تعاون سے بروکمین کو شام سے براستہ ترکی وطن واپس لایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق ابھی بروکمین پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تاہم وہ شام میں قیام کے دوران اپنی سرگرمیوں کے بارے میں زیرِ تفتیش ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ بروکمین چار دسمبر کو بھی شام میں ہی تھے یا نہیں۔ کیونکہ اس وقت آسٹریلوی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شہری رقہ جائے گا تو اسے 10 سال قید کی سزا ہوگی۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے آسٹریلیا کے دہشت گردی کے خلاف قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے۔اس نئی قانون سازی میں دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کرنا بھی آسان ہے۔
اس سے قبل آسٹریلوی پولیس نے جون میں اپنے شہری ڈاکٹر طارق کاملی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ انھیں رقہ کے ہسپتال میں دولتِ اسلامیہ کی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا جس میں وہ مغربی طبی ماہرین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی وہاں آکر ان کے ساتھ کام کریں۔
ڈاکٹر طارق کاملی اگر ملک لوٹتے ہیں تو انھیں دہشت گردی کے تین الگ الگ جرائم کے تحت 45 سال تک قید کاٹنا ہوگی۔

آسٹریلوی حکومت کے مطابق اس کے کم ازکم 100 شہری مشرقِ وسطیٰ میں موجود دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جبکہ 150 ایسے شہری ہیں جو کرد جنگجوؤں جیسےگروہوں کی مدد کر رہے ہیں۔
فیئرفیکس میڈیا سے گفتگو میں ایڈم بروکمین کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری شام کو نظر انداز کر رہی ہے۔
’میں نے سوچا کہ میں مدد کر سکتا ہوں، میں شامی لوگوں کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہوں۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ جب فضائی بمباری کے دوران زخمی ہوئے اور انھیں دہشت گردوں کے کنٹرول میں چلنے والے ایک ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ جس کے بعد انھیں دولتِ اسلامیہ میں شمولیت پر مجبور کیا گیا۔
دوسری جانب کرد جنگجوؤں کے ساتھ شام میں لڑنے والے ایک آسٹریلوی شہری کا جسدِ خاکی جمعے کو آسٹریلیا پہنچایا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا کے سرکاری خبررساں ادارے اے بی سی کے مطابق 23 سالہ ریس ہارڈنگ دولتِ اسلامیہ کے خلاف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کارروائیوں میں حصہ لے رہے تھے اور اس دوران بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے باعث ان کی ہلاکت ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریس ہارڈنگ کی آخری رسومات اتوار کو متوقع ہیں۔







