’شام میں دو آسٹریلوی شہریوں کی ہلاکت‘

،تصویر کا ذریعہ
آسٹریلوی حکومت ان اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کے دو شہری جو دولت اسلامیہ کی جانب سے جنگ میں شامل ہونے گئے تھے وہ عراق میں مارے گئے ہیں۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق خالد شروف اور محمد العمر عراق میں جنگ کے دوران مارے گئے ہیں۔
یہ دونوں افراد گذشتہ سال اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے جب انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کٹے ہوئے سر کی تصاویر پوسٹ کیں۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے منگل کو کہا کہ حکومت ان میں سے ایک موت کے تصدیق کے بہت قریب ہے۔
انھوں نے کہا کہ العمر کی موت کے بارے میں تصدیق کے امکانات بہت قوی ہیں جبکہ شروف کے بارے ہم لوگ ابھی تک رپورٹ کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آسٹریلیئن براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کے مطابق ان دونوں کے اہل خانہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں حالیہ دنوں یا تو جنگ میں یا پھر ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔
جولی بشپ نے منگل کو بتایا کہ العمر کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ موصل میں تھے اور وہاں حالیہ دنوں کئی فضائی حملے ہوئے ہیں۔
تاہم انھوں نے کہا: ’عراق کے سکیورٹی حالات کے پیش نظر ہمارے حکام کے لیے ایسی معلومات کا حاصل کرنا بہت مشکل ہے جس سے ان خبروں کی تصدیق ہو سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ ان دونوں نے سنہ 2013 میں پہلے شام پھر عراق کا سفر کیا۔ گذشتہ سال انھوں نے شامی فوجیوں کی تن سے جدا سر کی تصاویر سوشل میڈیا پر پیش کی تھیں۔ شروف نے اپنے سات سالہ بیٹے کی تصویر بھی پوسٹ کی تھی جو ایک کٹے ہوئے سر کو چھو رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایسا کہا جاتا ہے کہ اسی دوران شروف کے اہلیہ اور ان کے بچے بھی ان سے شام میں جا ملے جہاں مبینہ طور پر انھوں نے اپنی نوجوان بیٹی کی محمد العمر سے شادی کر دی۔
آسٹریلوی حکومت نے دونوں افراد کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے اور گذشتہ سال ان کے خلاف پولیس وارنٹ جاری کیے گئے۔
شروف جو کہ سکیورٹی کی نگرانی کی فہرست پر تھے انھوں نے آسٹریلیا سے روانگی کے لیے اپنے بھائی کے پاسپورٹ کا استعمال کیا۔
شروف کو سنہ 2009 میں سڈنی اور میلبرن کے حملے کی سازش میں شامل ہونے کے لیے چار سال کی قید سنائی گئي تھی۔
اس سے قبل سنہ 2005 میں انھیں کئی الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
شروف کی اہلیہ اور ان کے پانچ بچے مبینہ طور پر آسٹریلیا واپس آنا چاہتے ہیں۔







