اسرائیل نے مشتبہ ’یہودی انتہا پسندوں‘ کو رہا کر دیا

اتوار کو اسرائیلی پولیس نے سات یہودی شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناتوار کو اسرائیلی پولیس نے سات یہودی شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا

اتوار کو اسرائیلی پولیس کی جانب سے تفتیش کے لیے حراست میں لیے جانے والے مشتبہ یہودی انتہا پسندوں میں سے کئی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق غرب اردن میں آتشزنی کے واقعے سے تعلق کے الزام میں کم از کم سات افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

غرب اردن میں دو غیر قانونی یہودی آبادیوں میں چھاپوں کے دوران یہ گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔تاہم اس حملے سے براہ راست تعلق میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس کے علاوہ اتوار کو اسرائیل نے بغیر مقدمہ چلائے مزید دو مبینہ یہودی انتہا پسندوں کو ایک متنازع قانون کے تحت قید کیا تھا۔

یہ حملہ 31 جولائی کو مقبوضہ غرب اردن کے علاقے نابلس کے قریب دومہ نامی گاؤں میں کیا گیا تھا جس میں سعد کے مکان کو رات گئے آگ لگائی گئی تھی۔

اس آگ کے نتیجے میں ڈیڑھ سالہ بچہ علی سعد جل کر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ ان کے والد، والدہ اور ایک بھائی شدید زخمی ہوئے تھے۔

بعد میں علی سعد کے والد اور گھر کے سربراہ سعد الدوابشہ نے اسرائیل کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو دم توڑا۔ اس واقعے میں وہ بری طرح جل گئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ اور دوسرے بیٹے کی حالت اب بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔

علی سعد کے والد اور گھر کے سربراہ سعد الدوابشہ نے اسرائیل کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو دم توڑا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعلی سعد کے والد اور گھر کے سربراہ سعد الدوابشہ نے اسرائیل کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو دم توڑا

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ مئیر ایتنگر اور ایویٹر سلونم جنھیں حالیہ دنوں میں گرفتار کیا گیا تھا، کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے جبکہ اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل اسرائیل انتظامی حراست کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف کرتا رہا تھا لیکن اس نے یہودیوں کے خلاف اس قانون کا استعمال نہیں کیا تھا۔

ان کے مکان پر حملے کا الزام یہودی آبادکاروں پر عائد کیا گیا ہے جنھوں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کا لفظ بھی تحریر کیا تھا۔

اس واقعے کی فلسطینی حکام کے علاوہ عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی میں کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

اس سلسلے میں پہلی بار اسرائیلی حکام نے ایک مشتبہ یہودی کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈالنے کا غیر معمولی قدمبھی اٹھایا ہے۔

غرب اردن میں آباد یہودی موڈیچائے میئر کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں لیا گيا ہے اور ان پر سعد کے مکان کو آگ لگانے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی گئی تقریباً 100 بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں جو سنہ 1967 میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد وہاں آباد ہوئے ہیں۔

ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی کہا جاتا ہے لیکن اسرائیل اسے غیر قانونی نہیں سمجھتا۔