’زندہ جلائے گئے فلسطینی بچے کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
خیال رہے کہ یہ 18 ماہ کا فلسطینی بچہ یہودی آبادکاروں کی جانب سے آتش زنی کے واقعے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
بان کی مون کے ترجمان نے کہا کہ یہودی آباکاروں کے جرائم کو بار بار نظر انداز کیے جانے اور ان کو سزا سے بری قرار دیے جانے کی وجہ سے یہ پرتشدد واقعات ہوئے ہیں اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ امن کی بحالی کی کوششوں کی عدم موجودگی، اسرائیل کی آبادکاری کی ناجائز پالیسی اور بقول ان کے ’فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کی ان کی سخت اور غیر ضروری عادت‘ کی وجہ سے دونوں جانب پرتشدد انتہا پسندی پروان چڑھی ہے۔
امریکہ نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’وحشیانہ‘ قرار دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے وعدہ کیا ہے کہ اس لیے ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔ اس واقعے کو انھوں نے دہشت گردانہ واقعہ قرار دیا ہے۔
انھوں نے اس واقعے پر صدمے اور افسوس کا اظہار کیا اور ہسپتال میں زیر علاج بچے کے والدین اور اس کے بھائی کی عیادت کی۔
انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا:’یہ ہر لحاظ سے دہشت گردی ہے اور اسرائیلی ریاست دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق سخت اقدامات کرتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک کہ فلسطین کے علاقے میں یہودیوں کی ناجائز بستیاں آباد ہیں۔
جبکہ فلسطینی حکام نے فلسطینی بچے کے جل کر ہلاک ہونے کے واقعے کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ نابلس کے قریب دومہ نامی گاؤں میں کیا گیا جس میں ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو رات کے وقت آگ لگائی گئی۔
اس آگ میں 18 ماہ کا بچہ علی سعد جل کر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے والدین اور بڑا بھائی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن پی ایل او‘ کا کہنا ہے کہ فلسطینی بچے علی سعد دوآبشاہ کے وحشیانہ قتل کی ذمہ داری مکمل طور پر اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے بیان میں مزید کہا ہے کہ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے کئی دہائیوں سے یہودی آبادکاروں کی دہشت گردی کو دی گئی آزادی کی وجہ سے یہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہrabbis for human rights
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گھر پر آگ کا گولہ پھینکا گیا تھا۔ والد اپنی بیوی اور بڑے بیٹے کو بچانے میں کامیاب رہے تاہم وہ چھوٹے بچے کو نہ بچا سکا۔
حملہ آوروں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کے لفظ بھی تحریر کیا ہے اور اس آگ سے ایک اور گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے: ’ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشتبہ افراد علی الصبح گاؤں میں داخل ہوئے، گھروں کو آگ لگائی اور گھروں پر سپرے سے عبرانی زبان میں تحریر لکھی۔‘
’آئی ڈی ایف اس حملے میں ملوث مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے آپریشن کر رہی ہے۔‘







