’اسرائیلی اور فلسطینی، دونوں جنگی جرائم کے مرتکب‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ 2014 میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان ہونے والی کشیدگی میں اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں دونوں جانب سے سنگین جنگی جرائم کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں اطراف سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد ملے ہیں۔
اسرائیل نے اس تفتیش کو سیاسی مقاصد کے لیے تشکیل دی گئی اور ابتدا سے ہی ’اخلاقی طور پر ناقص‘ کہہ کر رد کر دیا ہے۔ 2014 میں ہونے والی مذکورہ جنگ جولائی اور اگست کے درمیان 50 روز تک جاری رہی۔
رپورٹ کے مطابق فلسطین میں 2251 افراد مارے گئے جن میں سے 1462 عام شہری تھے۔ دوسری جانب چھ شہریوں سمیت 67 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے غزہ پر کارروائی راکٹ حملے رکوانے کے لیے کی تھی۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی یہ تفتیشی ٹیم شروع سے ہی تنازعات کا شکار ہے۔ اس ٹیم کے سابق سربراہ ولیم شیبس کو کام مکمل ہونے سے قبل ٹیم کو چھوڑنا پڑا کیونکہ اسرائیل کی جانب سے ان پر متعصب ہونے کے الزام لگائے گئے تھے۔ وہ ماضی میں پی ایل او کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا ہے جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ٹیم نے پہلے ہی سے انھیں قصور وار فرض کیا ہوا تھا۔







