غزہ کا تنازع: ’فلسطین کی اتحادی حکومت مستعفی ہو جائے گی‘

محمود عباس فلسطین کی اتحادی حکومت کے صدر ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمحمود عباس فلسطین کی اتحادی حکومت کے صدر ہیں

فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے کنٹرول کے معاملے پر فلسطین کی اتحادی حکومت مستعفی ہو رہی ہے۔

انھوں نے اپنی تنظیم الفتح کو بتایا ہے کہ کابینہ کو تحلیل کرنا پڑے گا کیونکہ ان کی مخالف جماعت حماس انھیں غزہ میں کام کرنے نہیں دے گي۔

خیال رہے کہ غزہ پر حماس کا کنٹرول ہے۔

اتحادی کابینہ نے گذشتہ سال جون میں حلف لیا تھا اور اس کی تشکیل کا مقصد غرب اردن پر حکومت کرنے والی جماعت فتح اور غزہ میں مضبوط حماس کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنا تھا۔

خیال رہے کہ یہ دونوں جماعتیں سنہ 2006 کے انتخابات کے بعد سے ان علاقوں میں علیحدہ علیحدہ حکومت کر رہی تھیں کیونکہ حماس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور غزہ سے فتح کو سنہ 2007 میں نکال دیا تھا۔

بی بی سی کی یولندے نیل کا کہنا ہے کہ ہر چند فتح اور حماس نے باضابطہ طور پر ٹیکنوکریٹک حکومت پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن ان میں گہرے اختلافات موجود رہے جس کے نتیجے میں حکومت مفلوج رہی۔

ہماری نمائندہ کا کہنا ہے کہ الفتح حماس پر غزہ میں ایک آزاد اسلامی مملکت کے قیام کی کوشش کا الزام لگاتی ہے جبکہ حماس کا دعویٰ ہے کہ الفتح شکست کے خوف سے عام انتخابات سے بچنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اس بات پر مصر ہے کہ وہ حماس کے تعاون والی اتحادی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس نے اسرائیل کی بربادی کی قسم اٹھا رکھی ہے۔