’حماس کو غزہ میں اپنا طرز عمل تبدیل کرنا ہو گا‘

’ہم حماس کے ساتھ اس طرح نہیں چل سکتے‘
،تصویر کا کیپشن’ہم حماس کے ساتھ اس طرح نہیں چل سکتے‘

فلسطینی صدر محمود عباس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اتحادی حکومت کو برقرار رکھنا ہے کہ حماس کو غزہ میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہو گا۔

محمود عباس نے غزہ کے 27 نائب وزرا پر تنقید کی اور کہا کہ ایک ہی حکومت ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کے بعد غزہ میں رہائشی اپنی زندگیاں معمول کی جانب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حملوں میں 2100 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 66 اسرائیلی فوجی اورسات اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

حماس کی حکومت باضابطہ طور پر اس وقت مستعفی ہو گئی تھی جب دو جون کو رام اللہ میں اتحادی کابینہ نے اپنے عہدے سنبھالے۔ تاہم غزہ میں حماس کا ہی کنٹرول ہے۔

قائرہ میں آمد پر محمود عباس نے کہا ’ہم حماس کے ساتھ اس طرح نہیں چل سکتے۔ غزہ میں 27 نائب وزرا ہیں جو غزہ کی پٹی کی حکومت چلا رہے ہیں جبکہ قومی اتحادی حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔‘

محمود عباس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث معاشی نقصان ہوا ہے اور جو انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے اس کی تعمیرِ نو کے لیے 15 سال اور سات بلین ڈالر درکار ہیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنمحمود عباس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث معاشی نقصان ہوا ہے اور جو انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے اس کی تعمیرِ نو کے لیے 15 سال اور سات بلین ڈالر درکار ہیں

اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے کہا کہ محمود عباس کے پاس غلط معلومات ہیں اور محمود عباس کی فتح تنظیم کے ساتھ اختلافات کو دور کرنے کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔

محمود عباس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث معاشی نقصان ہوا ہے اور جو انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے اس کی تعمیرِ نو کے لیے 15 سال اور سات بلین ڈالر درکار ہیں۔

محمود عباس نے کہا کہ 2014 کے حملوں میں ہونے والا نقصان 2009 اور 2012 کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ 2014 کے حملوں میں ہونے والا نقصان 2009 اور 2012 کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحمود عباس نے کہا کہ 2014 کے حملوں میں ہونے والا نقصان 2009 اور 2012 کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہے