غزہ کے ساحل پر، اسرائیل نے’ غلطی سے لڑکوں کو ہلاک کیا تھا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کی جانب سے ہونے والی تحقیقات سے واضح ہو گیا ہے کہ اس کی فوج نے سنہ 2014 میں غزہ پر حملے کے دوران چار فلسطینی لڑکوں کو غلطی سے ہلاک کیا تھا۔
ان تحقیقات کا جو نتیجہ سامنے آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں ساحل پر کیے جانے والے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے لڑکوں کو اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہونے والے حماس کے جنگجوؤں کے شبہے میں مارا گیا تھا۔
دنیا بھر میں اس حملے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔
یہ واقع اسرائیلی اور غزہ کے جنگجوؤں کے درمیان 50 روزہ جنگ کے دوران پیش آیا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں 1486 عام شہریوں سمیت 2189 فلسطینی جبکہ چھ عام شہریوں سمیت 67 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ دس سالہ احد عاطف بکر، ذکریہ احد بکر، نو سالہ محمد رمیز بکر اور 11 سالہ اسماعیل محمد بکر 16 جولائی کو ہونے والے دو میزائل حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
تحقیقات کی معلومات بتاتے ہوئے اسرائیلی دفاع کے حکام نے کہا کہ اسرائیل کی ملٹری پولیس نے ’مجرمانہ تحقیقات‘ کا آغاز کیا تھا۔ جس میں انھوں نے اس یہ حملہ کرنے اس کی منصوبہ بندی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں ، اور ساتھ ہی ان تین فلسطینی افراد سے بھی سے شواہد اکھٹے کیے ہیں جن کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے کے عینی شاہد ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ اس ساحل پر موجود اس کمپاؤنڈ میں پیش آیا جسے عام شہریوں کے حصے سے الگ کیا گیا تھا اور صرف حماس کے جنگجوؤں کے استعمال میں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
16 جولائی کو اسرائیلی فوج کو یہ معلومات موصول ہوئی تھیں کے ان پر حملے کی تیاری کرنے کے لیے جنگجو اس مقام پر جمع ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ اس حملے کے دوران کسی بھی موقع پر وہاں موجود لوگوں میں بچوں کی موجودگی نہیں پائی گئی تھی۔‘
تاہم اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ’یہ بات واضح ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں چار بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے جن کی جنگجوؤں کے کمپاؤنڈ میں موجودگی ابھی تک غیر واضح ہے۔‘
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ’اس حملے میں ہدف کی شناخت نہیں کی گئی تھی لیکن اس حملے کے عمل پر اسرائیل اور بین الاقوامی قوانین کے تحت سوالات برقرار ہیں۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ اس فائل کو مزید قانونی کارروائی کئے بغیر بند کر دیا جائے گا۔







