اسرائیلی فوج نے غزہ میں ’بلا امتیاز‘ گولے برسائے

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل میں سرگرم گروپ نے اسرائیلی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ ’بلاامتیاز فائر کرنے کی پالیسی‘ کی وجہ سے غزہ کی جنگ کے دوران سینکڑوں فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔
’بریکنگ دی سائلنس ‘نامی اس گروپ کا کہنا ہے کہ 50 روز تک جاری رہنے والے اس تنازعے کے دوران جنگی اصولوں کی پاسداری نہ ہونے کے برابر تھی۔
گروپ نے فوجیوں کے تاثرات بھی شائع کیے ہیں، جن میں سے ایک کا کہنا تھا کہ انھیں جو شخص بھی نظر آئے اسے گولی مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ گروپ اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں ہونے والی لڑائی میں مجموعی طور پر2,189 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جن میں 1,486 سے زیادہ تعداد عام شہریوں کی تھی۔
جبکہ 75 اسرائیلی فوجی اہکار اور چھ شہری ہلاک ہوئے تھے۔
بریکنگ دی سائلنس حاضر سروس اور سابقہ فوجیوں پر مشتمل ایک گروپ ہے۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کو تیار کرنے میں 60 سے زیادہ اُن حاضر سروس اور ریزرو اسرائیل ڈیفنس فورس کے اہلکاروں کے انٹرویوز کیے گئے جنھوں نے آپریشن پروٹیکٹیو ایج میں حصہ لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اس جارحانہ کارروائی کا مقصد غزا کی جانب سے پھینکے جانے والے راکٹوں اور عسکریت پسندوں کے سرنگوں کے ذریعے حملوں کو روکنا تھا۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ یہ تاثرات ’اسرائیل ڈیفنس فوررس کی جنگی کارروائیوں میں انتہا درجے کی تبدیلی کی تکلیف دہ تصویر‘ پیش کرتے ہیں۔
مرچنڈائزڈ انفنٹری کے ایک سارجنٹ نے کہا: ’(غزہ میں) ہر چیز سے خطرہ ہے، علاقے کو ’پاک‘ کرنا ہوگا۔ لوگوں سے خالی کرنا ہوگا اور گر ہم کسی کو سفید جھنڈا لہراتے، ’میں نے ہار مانی‘ یا ایسا ہی کچھ چلاتے ہوئے نہیں دیکھا تو وہ ہمارے لیے خطرہ ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اس پر فائرنگ کی جاسکے۔‘
انجنیئرنگ یونٹ سے منسلک ایک سارجنٹ کا کہنا تھا: ’شروع میں انھوں نے ہمیں بتایا کہ، ’گولی مار دو‘۔ جہاں تک آئی ڈی ایف کا غرض ہے ان کے خیال میں یہاں عام شہریوں کی کوئی آبادی نہیں ہے۔‘
بریکنگ دی سائلنس کے مطابق شہری انفراسٹکچر اور گھروں کو ’بغیر کسی آپریشنل توجیح‘ کے مسمار کیا گیا۔ بہت سارے گھروں پر گولہ باری صرف علاقے میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے یا سزا دینے کے طور پر کی گئی۔‘
ایک انفنٹری یونگ کے ایک سارجنٹ بناتے ہیں کہ بلڈوزروں نے ’ایک سیکنڈ کے لیے بھی سکون نہیں کیا۔ لگاتار، جیسے وہ ریت میں کھیل رہے ہوں۔ بیچھے جاتے، آگے بڑھتے، پھر پیچھے جاتے اور آگے بڑھتے، ایک اور گھر، ایک اور گلی مسمار کرتے ہوئے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بریکنگ دی سائلنس کی ڈائریکٹر یولی نووک کا کہنا ہے کہ ’جنگی اصولوں کی پاسداری میں آئی ڈی ایف اخلاقی طور پر نام رہی ہے۔‘
اسرائیل کی فوج آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام دعوؤں کی مکمل تحقیقات کریں گے۔‘
آئی ڈی ایف کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’آج ماضی کی طرح بریکنگ دی سائلنس تنظیم سے آئی ڈی ایف سے متعلقہ سرگرمیوں سے متعلق اشاعت سے قبل ثبوت فراہم کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ صحیح تحقیقات کی جاسکیں۔‘
’بدقسمتی سے ماضی میں بریکنگ دی سائلنس کی جانب سے آئی ڈی ایف کو اپنے دعوؤں کے ثبوت فراہم کرنے انکار کر دیا گیا تھا‘
بیان کے مطابق گذشتہ برس پیش آنے والے تنازعے کے بعد اسرائیلی فوجیوں اور کمانڈرز کو شکایات کا موقع فراہم کیا گیا تھا اور ’غیرمعمولی واقعات‘ کی مزید تفتیش کے لیے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کے آفس بھیج دیا گیا تھا۔







