’حماس نے غزہ کی جنگ کے دوران اپنا حساب بھی برابر کیا‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ کی جنگ بہیمانہ طریقے سے اپنا حساب برابر کرنے کے لیے استعمال کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ کی جنگ بہیمانہ طریقے سے اپنا حساب برابر کرنے کے لیے استعمال کیا

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے فلسطینی گروپ حماس پر گذشتہ برس غزہ میں اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران فلسطینی شہریوں کے اغوا، ان پر تشدد اور انھیں ہلاک کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ حماس کے کچھ اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں 20 ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جو بقول اس کے حماس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے زیادہ تر افراد کا تعلق حماس کے مخالف گروہ الفتح سے تھا۔

تنظیم کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب غزہ پر اسرائیلی حملوں سے بڑے پیمانے پر عام شہری ہلاک ہو رہے تھے، حماس اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر اپنا حساب برابر کرنے میں مصروف تھی۔

50 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 2200 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسرائیل کے 67 فوجی اور چھ شہری اس لڑائی میں مارے گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس نے اس عرصے میں 23 فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ درجنوں کو پکڑ کر ان پر تشدد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حماس نے جن 23 افراد کو قتل کیا ان میں سے 16 جنگ شروع ہونے سے قبل ہی حماس کی حراست میں تھے۔

50 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 2200 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسرائیل کے 67 فوجی اور چھ شہری اس لڑائی میں مارے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن50 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 2200 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسرائیل کے 67 فوجی اور چھ شہری اس لڑائی میں مارے گئے تھے

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان اور تشدد کا نشانہ بننے والے یا تو فلسطینی صدر محمود عباس کی الفتح پارٹی کے ارکان تھے یا وہ لوگ جن پر حماس کی جانب سے اسرائیل سے تعاون کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں 22 اگست 2014 کو پیش آنے والے ایک واقعے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس تاریخ کو حماس کے کارکنوں نے العمری مسجد کے باہر چھ افراد کو سینکڑوں افراد کے سامنے ہلاک کیا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ حماس نے اس وقت یہ اعلان کیا کہ یہ افراد اسرائیلیوں سے تعاون کرنے کے ملزم ہیں جنھیں ’انقلابی عدالتوں‘ نے سزائے موت سنائی ہے۔

ایمنسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حماس نے لوگوں کو اغوا کر کے رکھنے اور ان پر تشدد کے لیے غزہ شہر کے مرکزی ہسپتال ’شفا‘ کے ایک متروک کلینک کی عمارت استعمال کی۔

تنظیم کے اہلکار فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ حماس نے اس جنگ کو ’بہیمانہ طریقے سے اپنا حساب برابر کرنے کے لیے استعمال کیا اور غیر قانونی ہلاکتوں کے علاوہ بڑے پیمانے پر حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں کیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ اقدامات، جن میں سے کچھ جنگی جرائم کے مترادف ہیں، غزہ میں خوف پھیلانے اور بدلہ لینے کے لیے کیے گئے۔‘

 حماس نے سنہ 2007 میں غزہ کا کنٹرول صدر محمود عباس کی تنظیم الفتح سے حاصل کر لیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن حماس نے سنہ 2007 میں غزہ کا کنٹرول صدر محمود عباس کی تنظیم الفتح سے حاصل کر لیا تھا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فلپ لوتھر نے کہا کہ ’مسلح تنازعے کے دوران تشدد اور قیدیوں سے برا سلوک جنگی جرم ہے جبکہ ماورائے عدالت قتل بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔‘

یہ 2014 کی غزہ جنگ پر ایمنسٹی کی پہلی رپورٹ نہیں ہے۔

رواں برس مارچ میں بھی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں حماس پر غزہ کے شہری علاقوں سے اسرائیل کے شہری علاقوں پر راکٹ حملے کر کے جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کا الزام لگایا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق غزہ میں حماس کے ایک عہدیدار صلاح برداولی نے کہا ہے کہ ایمنسٹی کی رپورٹ میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ’قانون کے دائرے‘ سے باہر رونما ہوئے اور حماس ان کی تحقیقات کر رہی تھی۔

خیال رہے کہ حماس نے سنہ 2007 میں غزہ کا کنٹرول صدر محمود عباس کی تنظیم الفتح سے حاصل کر لیا تھا اور اب وہ غزہ جبکہ الفتح غربِ اردن کے کچھ حصوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔