حماس رہنما کی جانب سے ’اسرائیلی انتہا پسندی‘ پر انتباہ

فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس کے سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائلی انتخابات کے نتائج قیام امن کی امید کو مزید کم کردیں گے۔
خالد مشعل نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور ان کی دائیں بازو کی اتحادی پارٹیوں کی کامیابی کی وجہ سے مزید ’انتہا پسندی‘ سامنے آئے گی۔
انھوں نے کہا کہ حماس کی جانب سے انتہا پسندی میں اضافہ نہیں کیا جائے گا لیکن وہ اپنا دفاع کرے گی۔
گذشتہ گرمیوں میں حماس کی قیادت میں غزا کے جنگجوؤں نے اسرائیل کے ساتھ 50 دنوں تک جاری رہنے والی ایک جنگ کی جس میں 2200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
جمعرات کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ تصادم کے درمیان اسرائیل میں راکٹ اور مارٹروں سے شہری آبادیوں پر حملہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
اسرائیل امریکہ اور دیگر متعدد ممالک نے حماس کو اسرائیل پر اس کی جانب سے راکٹ حملوں کے طویل ریکارڈ اور تشدد کی راہ چھوڑنے سے انکار کرنے کے سبب دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

اس تنظیم کے منشور میں اسرائیل کی تباہی شامل ہے۔ لیکن اس کے حامی اسے جائز مزاحمتی تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں۔
قطر میں بی بی سی کے مشرق وسطی کے مدیر جیریمی بوون کے ساتھ انٹرویو کے دوران مشعل نے کہ ’جب تک اسرائیل کی جانب سے قبضہ، جارحیت، جنگ اور قتل جاری رہیں گے اسرائیل پر حملے جاری رہیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’حماس کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کا پاس ہے اور وہ صرف عسکری اہداف کو ہی نشانہ بنائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فلسطینوں نے یہ دکھایا ہے کہ ان میں لچک ہے اور وہ مناسب اور برحق امن کو حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔‘
انھوں نے مسٹر نتن یاہو کی حکومت اور اسرائیل کی ’انتہا پسند فورسز پر گذشتہ سال امریکہ کی جانب سے بلاواسطہ امن مذاکرات کے عمل کو ناکام بنانے کا الزام ڈالتے ہوئے کہا: ’لیکن اسرائیل نے امن پراسس کو قتل کر دیا۔‘
انھوں نے کہا: ’اسرائیل کے منصوبے ہمیشہ برے رہیں ہیں اور آج اسرائیلی دایاں بازو زوروں پر ہے اور ان کی وجہ سے انتخابات میں نتن یاہو کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس لیے اب یہ اور بھی مشکل ہو جائے گا اور ہمیں اسرائیلی مزاج مین مزید انتہا پسندی نظر آئے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
مسٹر مشعل کا کہنا ہے کہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے حماس نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ سے قبل کی سرحد کو ماننے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو مکمل منظوری دیں۔ انھوں نے اس ضمن میں مسٹر نتن یاہو کی جانب سے فلسطینی ریاست کو نہ قائم ہونے دینے کے عزم کی بات ذکر کیا جس کی امریکی صدر اوباما نے تنقید کی تھی۔
اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ دو ریاستوں کے حل کو سرے سے مسترد نہیں کرتے لیکن ان کے خیال میں یہ ابھی ممکن نہیں ہے۔
بدھ کو نئی حکومت سازی کے موقعے پر نتن یاہو نے کہا: ’ہمارے ہاتھ ہمارے پڑوسی فلسطینیوں کی جانب امن کے لیے بڑھے ہیں اور اسرائیل کی عوام جانتی ہے کہ امن اور ہمارے مستقبل کی یقین دہانی صرف ایک مضبوط اسرائیل میں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مشعل نے انٹرویو کے دوران نتن یاہو یا دیکر لوگوں کی جانب سے حماس کو دولت اسلامیہ یا القاعدہ کی طرح کا جہادی گروپ قرار دیے جانے کو مسترد کر دیا۔
انھوں نے کہا: ’یہ ایک اسرائیلی سازش ہے۔ وہ مغرب اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ ایک ہی صفحے پر آنے کی کوشش میں ہیں جیسا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حماس اپنے حق بہ جانب مقصد کے حصول کے لیے متحرک مزاحمت ہے جو قابضوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’دوسری تنظیمیں جہاد کے نام پر تشدد کرتی ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔یہ اسلام کے منافی ہے۔‘







