’جب تک اسرائیلی محاصرہ ہے، جنگ بندی نہیں ہو سکتی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم ہونے تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہا کہ ہر کوئی ہم سے چاہتا ہے کہ ہم جنگ بندی کو تسلیم کر لیں اور اس کے بعد اپنے حقوق کے لیے مذاکرات کریں۔
بدھ کو قطر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اسے مسترد کیا تھا اور آج بھی مسترد کرتے ہیں۔
خالد مشعل کا کہنا تھا کہ ہم ایسے کسی اقدام کو تسلیم نہیں کریں گے جو ہمارے لوگوں پر جاری محاصرے اور ہمارے لوگوں کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا گروپ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والی عارضی جنگ بندی کے لیے ’دروازے بند نہیں کرتا،‘ ہم چند گھنٹوں کا سکون چاہتے ہیں تاکہ ہم اپنے زخمی ہونے والے افراد کو وہاں سے نکال سکیں۔
انھوں نے بین الاقوامی برادری سے غزہ میں ادویات، تیل اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل میں معاونت کی اپیل کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خالد مشعل کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور اسرائیلی فوج غزہ پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی بھی کر رہی ہے۔
غزہ میں اطلاعات کے مطابق تقریباً پانچ ہزار فلسطینی ملک کے جنوب میں واقع خنضا گاؤں سے اسرائیلی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطین کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائی میں اب تک 690 افرار مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ بدھ کو اس کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق غزہ سے بدھ کو داغے جانے والے راکٹ میں ایک غیر ملکی کارکن ہلاک ہو گیا۔
فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ان کے آٹھ شدت پسند مارے گئے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر آٹھ جولائی سے کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک 649 فلسطینی اور 31 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد اسرائیل پر فلسطین کی جانب سے ہونے والے راکٹ حملوں کو روکنا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں مارے جانے والے افراد میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
قبل ازیں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر نوی پیلے نے غزہ پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اسرائیل کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہو۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوی پیلے نے کہا تھا کہ ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسرائیل نے بین القوامی قوانین کی اس انداز میں خلاف ورزی کی ہو جو جنگی جرائم کے مترادف ہے۔‘







