غزہ کی صورتحال پر سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے میں شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور تشدد کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ایک خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک اسرائیلی سکیورٹی بحال نہیں ہو جاتی۔
یاد رہے کہ غزہ پر گذشتہ کئی دنوں سے جاری اسرائیلی گولہ باری انتہائی شدید ہو گئی ہے اور اطلاعات کے مطابق اتوار کو غزہ میں کم از کم 100 افراد مارے گئے جن میں سے 67 افراد شجائیہ میں ہلاک ہوئے۔ 13 دنوں میں فلسطینی ہلاکتوں کی کُل تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ شجائیہ میں ہونے والی اموات ایک ’قتل عام‘ ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 13 فوجی مارے گئے ہیں اور ان سب کا تعلق اسرائیلی فوج کی گولان برگیڈ سے تھا۔
فلسطین کے طبی ذرائع کے مطابق تازہ ترین اموات غزہ شہر سے مشرق کی جانب واقع شجائیہ کے علاقے میں ہوئی ہیں جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اِس علاقے میں لاشیں گلیوں اور سڑکوں پر پڑی ہوئی ہیں۔
اتوار کی شدید گولہ باری سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس کے خلاف زمینی کارروائی کا دائرہ بڑھا دیا ہے، تاہم اس اعلان کے دو گھنٹے بعد اسرائیل نے شجائیہ میں انسانی بنیادوں پر دو گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجکر تیس منٹ سے تین بجکر تیس منٹ تک ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن غزہ میں موجود بی بی سی کی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ عارضی جنگ بندی محض ایک گھنٹے بعد ہی ختم ہو گئی تھی اور دونوں جانب سے گولہ باری شروع ہو گئی تھی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عام شہری ہیں۔
اتوار کی شدید گولہ باری سے قبل ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ غزہ میں ’دہشت گردی کے حلاف آپریشن‘ میں حصہ لینے کے لیے ’مزید فوجیں‘ بھیجی گئی ہیں۔

غزہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اور سڑکوں پر لاشیں پڑی ہیں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسرائیلی کی جانب سے زمینی، فضائی اور بحری کارروائی میں بمباری اتنی شدید ہے کہ ایمبولینسوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں فلسطینی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے تیرہویں روز اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری اب تک کی شدید ترین بمباری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون خلیجی ملک قطر پہنچ رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ وہ قطری حکام کی مدد سے حماس کے ساتھ غزہ میں قیامِ امن کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بان کی مون کے خطے میں جانے کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کو تشدد روکنے پر آمادہ کرنا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی قطر میں متوقع ہیں۔ یاد رہے کہ حماس کے رہنما خالد مشال قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہ جیفری فیلٹمین کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد اسرائیلی اور فلسطینیوں کو تشدد ختم کرنے اور آگے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ فیلٹمین نے کہا: ’اسرائیل کے سکیورٹی خدشات بجا ہیں اور ہم غزہ سے اسرائیل میں اندھادھندھ راکٹ برسانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن ہم اسرائیل کے اس زبردست جواب سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔‘
ادھر غزہ میں ہفتے کو آٹھ نفوس پر مشتمل ایک فلسطینی خاندان سمیت پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے ہفتے کو جنوبی اسرائیل میں ایک خمیہ بستی پر راکٹ گرنے سے ایک اسرائیلی بدو ہلاک اور اس کے خاندان کے افراد زخمی ہو گئے تھے۔
غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جاری ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے جمعہ کو کہا تھا کہ انھیں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کی تاہم غزہ میں کارروائی میں شدت میں اضافے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ جمعے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کی تاہم انھوں نے شہریوں کی ہلاکت پر ’تشویش‘ کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
دریں اثنا نتن یاہو نے ’اہم توسیع‘ کے لیے خبردار کیا ہے لیکن حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو حملے کی ’بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔‘
نتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کے سرنگوں کے نظام پر حملہ کرنے کے لیے زمینی کارروائی ضروری تھی کیونکہ فضائی حملے سے یہ ممکن نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے نتیجے میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی باشندوں نے پناہ مانگی ہے۔







