غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، بان کی مون ثالثی کی کوشش کریں گے

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون خلحجی ملک قطر پہنچ رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ وہ قطری حکام کی مدد سے حماس کے ساتھ غزہ میں قیامِ امن کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی قطر میں متوقع ہیں۔ یاد رہے کہ حماس کے رہنما خالد مشال قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے حماس نے مصر کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا جسے ماننے کے لیے اسرائیل نے حامی بھری تھی۔
ادھر غزہ میں ہفتے کو آٹھ نفوس پر مشتمل ایک فلسطینی خاندان سمیت پندرہ افراد کی ہلاکتوں کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو سے تجاوز کر گئی ہے۔
حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے ہفتے کو جنوبی اسرائیل میں ایک خمیہ بستی پر راکٹ گرنے سے ایک اسرائیلی بدو ہلاک اور اس کے خاندان کے افراد زخمی ہو گئے۔
غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جاری ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون ثالتی کرانے کے لیے علاقے کا دورہ کرنے والے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ پر دس دن کی مسلسل فضائی بمباری سے راکٹوں حملوں کو بند کرنے میں ناکامی کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بان کی مون کے خطے میں جانے کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کو تشدد روکنے پر آمادہ کرنا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے جمعہ کو کہا تھا کہ انھیں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کی تاہم غزہ میں کارروائی میں شدت میں اضافے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
جمعے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کی تاہم انھوں نے شہریوں کی ہلاکت پر ’تشویش‘ کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہ جیفری فیلٹمین کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد اسرائیلی اور فلسطینیوں کو تشدد ختم کرنے اور آگے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
فیلٹمین نے کہا: ’اسرائیل کے سکیورٹی خدشات بجا ہیں اور ہم غزہ سے اسرائیل میں اندھادھندھ راکٹ برسانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن ہم اسرائیل کے اس زبردست جواب سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
دریں اثنا نتن یاہو نے ’اہم توسیع‘ کے لیے خبردار کیا ہے لیکن حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو حملے کی ’بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔‘
10 دنوں کے فضائی حملے کے بعد اسرائیل کی زمینی فوج کا آپریشن شروع کیا گیا۔ واضح رہے کہ فضائی حملے کے باوجود غزہ سے راکٹ فائرنگ کا سلسلہ نہیں روکا جا سکا ہے۔
دریں اثنا فلسطینی صدر محمود عباس نے ترکی اور قطر سے کہا ہے کہ وہ حماس کو اس بات کے لیے راضی کریں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مصر کے مجوزہ معاہدے کو قبول کر لے۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات سے جب سے اسرائیل نے زمینی کارروائی شروع کی ہے 60 سے زیاد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
ابھی تک آٹھ جولائی سے جاری اسرائیلی آپریشن میں 300 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے تین چوتھائی عام شہری ہیں۔
اس جنگ میں ایک اسرائیلی فوجی اور ایک اسرائیلی شہری بھی مارا گیا ہے جبکہ کہ متعدد اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نتن یاہو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حماس کے سرنگوں کے نٹورک پر حملہ کرنے کے لیے زمینی کارروائی ضروری تھی کیونکہ فضائی حملے سے یہ ممکن نہیں تھا۔
اوباما نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی ملک یہ قبول نہیں کر سکتا کہ اس کی سرحد میں راکٹ برسائیں جائیں‘ تاہم اسرائیلی فوج سے کہا ہے کہ ’وہ اس طرح آپریشن کریں کہ شہریوں کی ہلاکت کم سے کم ہو۔‘
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے نتیجے میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی نے پناہ مانگی ہے۔
جمعے کو جنگ میں قدرے سستی کے بعد سنیچر کو زمینی اور فضائی دونوں حملوں میں تیزی آئی ہے۔







