بچوں کا اسرائیل کا دورہ، حماس کا اجازت دینے سے انکار

،تصویر کا ذریعہAFP
حماس نے ان 37 یتیم بچوں کو امن کے لیے کام کرنے والوں کے ہمراہ اسرائیل جانے کی اجازت سے انکار کر دیا ہے جن کے والدین غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
حماس کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو اسرائیل کی آباد کی گئی بستیوں اور ’مقبوضہ علاقوں‘ میں لے جایا جا رہا تھا۔
ان بچوں کی عمریں بارہ اور پندرہ سال کے درمیان ہیں اور انہیں اور ان کے ساتھ پانچ دیگر افراد کو ایریز بارڈر پر حماس کی جانب سے روک دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں 2100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق لڑائی میں 67 اسرائیلی فوجی اور چھ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بچوں کے لیے اس دورے کا انعقاد ’ کینڈل فار پیس‘ نامی امدادی تنظیم، کبوٹز کے راہنماؤں اور عرب اسرائیلی حکام نے کیا تھا۔ انھیں اسرائیل میں واقع ان عرب بستیوں میں لے جایا جا رہا تھا جن کو جنگ کے دوران حماس جنگجوؤں نے راکٹس کا نشانے بنایا تھا۔
ان بچوں کو ایک کثیرالنسلی سکول اور تل ابیب کے خوبصورت ساحل سمندر کی سیر بھی کرائی جانی تھی۔
کبوٹز کے اہلکار یوال مرشک کے مطابق ان بچوں کی اسرائیل کے زیر کنٹرول غرب اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات بھی کروائی جانی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی سکیورٹی سروس نےایک ہفتے پر مشتمل اس دورے کی اجازت دی دی تھی لیکن حماس کے حکام نے یہ کہہ کر دورہ منسوخ کر دیا کہ وہ بچوں کو اسرائیل کی ’حالات ٹھیک ہیں کی سیاست سے دور رکھنا‘ چاہتے ہیں۔







