اسرائیل میں فلسطینی شخص کو تین بار عمر قید

اسرائیل کی فوجی عدالت نے ایک فلسطینی شخص کو غرب اردن میں اغوا ہونے والے تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کے الزام میں تین بار عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
حماس کے رکن حسام قواسمی کو متاثرین کے خاندانوں کو معاوضے میں 63000 ہزار ڈالر بھی ادا کرنے ہوں گے۔
جون میں قتل کی ان وارداتوں کی وجہ سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملہ کر دیا تھا جو 50 دن تک جاری رہا تھا۔
حماس کے رہنما نےاگست میں ایک انٹرویو میں قبول کیا تھا کہ حماس نے تین اسرائیلی نوجوانوں کو ہلاک کیا۔
ناتافلی فرینکل اور ایل یفرک سولہ برس کے تھے جبکہ گیلاڈ شراد کی عمر 19 سال تھی۔ وہ گھر جاتے ہوئے بیت المقدس اور ہیبرون کے درمیان ایک چوراہے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔
ان کی لاشیں ایک قریبی وادی میں تقریباً تین ہفتوں کے بعد ملیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی حکام نے ان واقعات کے بعد حماس کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور مروان قواسمیہ اور امیر ابو عائشہ کو مشتبہ افراد قرار دے دیا تھا۔ گرفتاری سے قبل وہ کئی ماہ تک روپوش رہے۔
جولائی میں اردن جانے کی کوشش میں گرفتار ہونے والا 40 سالہ حسام قواسمیہ ابتدائی طور پر ایک مشتبہ شخص کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگست میں اسرائیلی سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے دستاویزات پیش کی گئیں تھیں جن کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مقتولیں کو اغوا کیا اور ہتھیاروں کی خریداری کے لیے حماس سے 50 ہزار ڈالر کا معاوضہ لیا۔
عدالت میں پیش کی گئیں سرکاری دستاویزات کے مطابق ملزم نے بچوں کی لاشیں اپنی زمین پر دفنانے اور ثبوت کو مٹانے میں مدد کرنے کا اعتراف کیا۔
بدھ کی شب اسرائیلی فوجی عدالت نے ملزم کو قتل کے تین الزامات کے علاوہ اغواء اور دہشت گردی سمیت کئی اور جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائیں۔
منگل کے روز اپنی سزا کی سماعت کے وقت، اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر نے الزام لگایا کہ حسام قواسمیہ نے بچوں کو انسان نہیں سمجھا اور ان کا قتل اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ یہودی تھے۔
ناتافلی فرینکل کے والد اورہم فرینکل کا کہنا تھا کہ وہ قانون کی مکمل شدت کے مطابق سزا کے مستحق ہیں۔
عدالت نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کے حسام قواسمیہ ایک خوفناک قاتل ہیں جس نے تین بچوں کا گھر جاتے ہوئے بےرحمی سے قتل کر دیا۔







