فلسطین کو محصولات کی منتقلی روکنے کی مخالفت

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو محصولات کے ذریعے وصول کی جانے والی رقوم کی منتقلی روکنے کی مخالف کی ہے۔
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان جین پساکی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اقدام سے کشدگی میں اضافہ ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ہم فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے براہِ راست مذاکرات پر واپس آنا مشکل ہو جائے۔
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ کو فلسطین کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات ’گہری تشویش‘ ہے۔
جین پساکی کا کہنا تھا کہ فلسطین کی جانب سے جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) میں شولیت اختیار کرنا ایک خود مختار اور آزاد ریاست کے لیے فلسطینی عوام کی امنگوں کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ نہیں کرتا۔
انھوں نے کہا کہ فلسطین کے اس اقدام سے امریکہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد پر اثر پڑ سکتا ہے۔
خِیال رہے کہ بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں رکنیت حاصل کرنے کے بعد فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کی درخواست کر سکتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل نے فلسطین کو ٹیکس کی رقوم کی منتقلی کو روک دیا ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل سنہ 2014 میں بھی جب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے مختلف بین الاقوامی معاہدات اور کنونشنز میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا اسرائیل نے ٹیکسوں کی رقوم فلسطینی اتھارٹی کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔
فلسطین کے صدر محمود عباس نے گذشتہ بدھ کو بین الاقوامی عدالت کے بنیادی معاہدے، روم کے قانون پر دستخط کیے۔
اس قانون کے تحت فلسطینی کی جانب سے آئی سی سی کی رکنیت کی درخواست دینے کے بعد 60 دن اس پر فیصلے میں لگے سکتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں۔
ہیگ میں قائم جرائم کی عالمی عدالت یکم جولائی سنہ 2002 میں روم کے قانون کے نفاذ کے بعد قتل عام، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے واقعات پر مقدمات چلا سکتی ہے۔
فلسطین کی جانب سے آئی سی سی میں رکنیت کی درخواست دینے کے بعد اسرائیل نے فلسطین کو محصولات کے ذریعے وصول کی جانے والی رقوم کی منتقلی روک دی تھی۔
فلسطینی اتھارٹی نے آئی سی سی میں رکنیت حاصل کرنے کی درخواست جمعہ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو جمع کروائی تھی جس کی امریکہ اور اسرائیل نے شدید مخالفت کی تھی۔







