یہودی آبادکار کے خلاف پہلی بار انتظامی حراست کا استعمال

،تصویر کا ذریعہGetty
اسرائیل نے ایک مشتبہ یہودی جنگجو کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈالنے کا غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔
خیال رہے کہ یہ قدم آتش زدگی کے ایک واقعے میں ایک فلسطینی بچے کی ہلاکت کے بعد اٹھایا گیا ہے اور اس یہودی پر آگ لگانے کا الزام ہے۔
غرب اردن میں آباد یہودی موڈیچائے میئر کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں لیا گيا ہے۔
ان پر ایک یہودی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے پرتشدد واقعات میں شامل ہونے کا الزام ہے۔
اس سے قبل اسرائیل انتظامی حراست کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف کرتا رہا تھا لیکن اس نے یہودیوں کے خلاف اس کا استعمال نہیں کیا تھا۔
جمعے کو غرب اردن میں آتشزدگی کے واقعے میں یہودی کے خلاف اس قسم کے حکم کا استعمال نیا قدم ہے جس کی منگل کو وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے منظوری دی۔

غرب اردن کے دیوما میں ہونے والے اس حملے میں 18 ماہ کے بچے علی سعد دوابشہ کی موت واقع ہو گئی اور ان کے تین رشتے دار بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔
زخمیوں میں اس بچے کے والدین اور چار سالہ بھائی شامل ہیں اور اس حملے کا الزام یہودیوں پر عائد کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایسے معاملوں میں جہاں مشتبہ افراد کے خلاف مناسب شواہد نہیں ہیں یا جہاں خفیہ معلومات دینے والوں کی شناخت کے ظاہر ہونے کا خوف ہو وہاں بغیر کسی عدالتی سماعت کے حراست میں لیا جانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔
خیال رہے کہ شہری حقوق کے علم بردار انتظامی حراست پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
فلسطینی بچے کی موت کے بعد پیر کو اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ پرتشدد یہودی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے تفتیش کے سخت طریقوں کو بروئے کار لائیں گے۔
داخلہ سکیورٹی کے وزیر جیلد ایردان نے اسرائیل ریڈیو کو بتایا کہ مشتبہ یہودی انتہا پسندوں کو حراست میں پرتشدد طور پر متزلزل کیا جا سکتا ہے۔ یہ متنازع طریقہ پہلے فلسطینی قیدیوں پر استعمال کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہrabbis for human rights
اسرائیلی وزیراعظم بن یامن نتن یاہو نے دیوما کے حملے کو ہر لحاظ سے ’دہشت گردی کا قدم‘ قرار دیا تھا اور انھوں نے اس کے ذمہ داروں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کی بات کہی تھی۔
جبکہ پی ایل او نے کہا تھا کہ وہ اس کے لیے اسرائیلی حکومت کو ’پوری طرح ذمہ دار‘ تسلیم کرتی ہے کیونکہ ’یہ آبادکاروں کی دہشت گردی کو دہائیوں سے دی جانے والی چھوٹ کا نتیجہ ہے۔‘
تقریباً 100 بستیوں میں تقریبا پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں جو سنہ 1967 میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد وہاں آباد ہوئے ہیں۔
ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی کہا جاتا ہے لیکن اسرائیل اسے غیر قانونی نہیں کہتا ہے۔







