غزہ: حماس حکام کی گاڑیوں میں دھماکے، دو افراد زخمی

دولتِ اسلامیہ کے حامیوں نے گذشتہ ہفتے حماس کے رہنماؤں کو حملوں کی دھمکی دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کے حامیوں نے گذشتہ ہفتے حماس کے رہنماؤں کو حملوں کی دھمکی دی تھی۔

غزہ میں سلسہ وار دھماکوں میں حکمران حماس کے عہدیداروں سمیت سرکاری حکام کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اتوار کی صبح چھ بجے کے بعد غزہ شہر میں چار دھماکوں میں گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان دھماکوں میں دو افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دھماکوں کا شکار ہونے والی پانچ گاڑیاں حماس اور اس کے مخالف شدت پسند گروپ ’اسلامی جہاد‘ کی تھیں۔

یاد رہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے حامی افراد نے گذشتہ ہفتے حماس کے رہنماؤں کو حملوں کی دھمکی دی تھی۔

روزنامہ ’یروشلم پوسٹ‘ نے حماس کے ایک کمانڈر، ابو حمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے اتوار کے دھماکوں کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ پر عائد کی ہے۔ ابو حمار نے حماس سے کہا ہے کہ وہ ان دھماکوں کا جواب دے۔

گذشتہ ماہ شام میں دولت اسلامیہ کے حامیوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پیغام شائع کیا تھا جس میں ’حماس کے جابر رہنماؤں‘ کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔

دولت اسلامیہ کو غزہ میں کچھ سلفی گروہوں کی حمایت حاصل ہے۔

حماس نے الزام لگایا ہے کہ غزہ میں دھماکے یہی گروہ کر رہے ہیں اور حالیہ ہفتوں میں درجنوں سلفیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔