غزہ کی تعمیرِ نو سست رفتار کیوں؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, یولاند نیل
- عہدہ, بی سی سی نیوز
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 50 دن تک جاری رہنے والی لڑائی میں غزہ کی ہزاروں عمارتیں تباہ و برباد ہو گئیں اور ان میں سے ایک بھی تباہ شدہ عمارت دوبارہ تعمیر نہیں کی گئی۔
اسرائیل اور مصر نے سرحدی آبادی پر سخت پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے تعمیرِ نو کے لیے کی جانے والی کوششیں متاثر ہوتی ہے۔
دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سکیورٹی کی ضرورت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اگرچہ اقوامِ متحدہ نے غزہ میں عمارتوں کے تعمیراتی ساز و سامان کی درآمد کے لیے ایک معاہدہ کروایا تھا اس کے باوجود وہاں پر ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ غزہ میں ایک لاکھ فلسطینی اب بھی بے گھر ہیں۔
اسلامی تنظیم حماس کے سنہ2007 میں غزہ میں اقتدار میں آنے کے بعد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں تاہم سنہ 2014 میں ہونے والی لڑائی اب تک کی سب سے خونی لڑائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اقوامِ متحدہ کے مطابق اس لڑائی میں 2,200 سے زائد فلسطینی جن میں زیادہ تر عام شہری جبکہ اسرائیل کے 67 سپاہی اور چھ عام شہری مارے گئے۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کا مقصد فلسطینی شدت پسندوں کو اس کی آبادی پر راکٹ برسانے سے روکنا تھا۔ اس کے علاوہ ایک مقصد شدت پسندوں کی جانب سے حملے کرنے کے لیے کھودی جانے والی خندقوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک اندازے کے مطابق غزہ میں 1,70,000 گھروں اور 360 فیکٹریوں کو نقصان پہنچا۔ 50 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ ہزاروں ایکڑ پر پھیلی اراضی تباہ ہو گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تعمیرِ نو کے لیے ایک شخص کی کوشش

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
غزہ کے مشرق میں انگریزی مضمون کے ایک استاد عبدالکریم ابو احمد اپنی بیوی اور 11 بچوں کے ساتھ ایک بڑے گھر میں روز گارڈن شجاعیہ میں رہتے ہیں۔
یہ خاندان اسرائیل اور فلسطین کی لڑائی کے دوران غزہ سے بھاگ گیا تھا جب وہ واپس آئے تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کا بڑا گھر تباہ ہو چکا تھا۔
اس خاندان کی زیادہ تر اشیا جن میں ان کا فرنیچر، کپڑے اور کتابیں شامل ہیں، تباہ ہو چکی تھیں۔
یہ خاندان اب ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے فلسطین مہاجرین (یو این آر ڈبلیو اے) کی جانب سے آنے والی امداد نے اس سرحدی آبادی والے علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کے لیے کرایہ ادا کیا۔
غزہ میں بلڈوزروں کی کمی ہے تاہم گذشہ ماہ ابو احمد کا خاندان آخر کار ایک بلڈوزر کی مدد سے اپنی زمین کو صاف کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس خاندان کے پاس نیا گھر بنانے کے لیے منصوبے ہیں اور قطری حکومت نے اس کے لیے رقم مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
عبدالکریم کہتے ہیں ’جنگ کے بعد سے تعمیرِ نو کے لیے بڑی رکاوٹیں تھیں اور یہ صورتِ حال بہت مایوس کن تھی تاہم مجھے امید تھی اور میں نے صبر کرنے کی کوشش کی۔‘
محاصرہ توڑنے کی اپیل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اسرائیل نے غزہ میں ’دہری استعمال‘ کے میٹریل کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان میں وہ عمارتی اشیا بھی شامل ہیں جنھیں استعمال کر کے شدت پسند نئی خندقیں بنا سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے غزہ میں نئی تعمیرات کی اجازت دینے کے لیے اسرائیل اور فلسطینی حکومتوں کے ساتھ غزہ تعمیرِ نو میکنزم پر اتفاق کیا ہے۔
اس کے تحت لوہے کی سلاخیں اور سیمنٹ (جسے عام طور پر اے بی سی میٹریل) بھی کہا جاتا ہے کی کیرم شلوم کی سرحد سے آنے کی اجازت ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے غزہ میں تباہ شدہ گھروں کا جائزہ لینے میں مدد کی۔ اس کی مکمل تفصیلات ایک کمپیوٹر ڈیٹا بیس میں رکھی گئیں اور اسرائیلی فوج نے اس کی کچھ معلومات کو نظر انداز کیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی رابطہ کار نکولائی ملادینوف کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو میں تاخیر کی بڑی وجہ غیر ملکی امداد آنے میں سست روی ہے۔
حماس اور فلسطین اتھارٹی میں پائے جانے والی نئی تفریق نے بھی ان مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تاہم ملادینوف کا کہنا ہے کہ وہ ’کافی پر امید‘ ہیں کہ تعمیرِ نو میکنزم ’آنے والے چند مہینوں‘ میں اپنا اثر ظاہر کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ تعمیرِ نو کے لیے اختیار کیا جانے والا نیا عمل نئے گھروں کی تعمیر کے لیے آسانی پیدا کرے گا۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی ادارے اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی مسلسل اپیل کر رہے ہیں۔
ان اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے میٹریل لانے کا صرف یہی ایک راستہ ہے جس سے مقامی معیشت بحال ہو گی۔







