’اسرائیلی کرنل نے بھاگتے ہوئے فلسطینی لڑکے پر گولی چلائی‘

،تصویر کا ذریعہunknown
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی اسرائیلی تنظیم نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ایک فلسطینی لڑکے پر فائرنگ کرتے ہو دکھایا گیا ہے۔
غربِ اردن میں اسرائیلی فوج کے کرنل نے ایک 17 سالہ فلسطینی لڑکے محمد کِسبہ کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا جب اُس نے کرنل کی گاڑی پر پتھر مارا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کرنل نے اس لیے گولی چلائی کہ اُس وقت وہ اپنی زندگی خطرے میں محسوس کر رہے تھے۔
لیکن ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکا جب گاڑی پر پتھر مارنے کے بعد بھاگنے لگا تو اسرائیلی فوجی باہر نکلا اور اُس نے گولی چلا دی۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بی ٹی سیلِم کا کہنا ہے کہ طبی شواہد کے مطابق لڑکے کی کمر میں گولی لگی۔
اسرائیلی فوج نے ویڈیو کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا لیکن اسرائیل کے روزنامے ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فوجی پولیس نے کرنل شومر سے فائرنگ کے اس واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے۔
یہ واقعہ تین جولائی کو یروشلم اور رام اللہ کے درمیان قلندیا چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا۔ اس علاقے میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
بنیامین بریگیڈ کے کمانڈر کرنل شومر کی گاڑی پر فلسطینی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اُس وقت کہا تھا کہ کرنل شومر نے گاڑی سے اتر کر مظاہرین کو پتھراؤ روکنے کے لیے کہا لیکن جب اُن پر لگاتار پتھر برسائے جاتے رہے تو انھوں نے گولی چلا دی۔ فلسطینی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لڑکے کو کمر اور سر کے ایک طرف گولی لگی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن عینی شاہدین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ پتھر مارنے میں محمد کسبہ کے ساتھ شامل ایک لڑکے احمد طاہر نے امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’ہم بھاگ رہے تھے۔‘
فائرنگ کی ویڈیو پیٹرول سٹیشن پر نصب سکیورٹی کیمرے سے لی گئی ہے۔ اس میں ایک لڑکے کو بھاگتے ہوئے اسرائیلی فوج کی گاڑی پر پتھر پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اچانک گاڑی رکتی ہے اور اسلحہ لیے دو فوجی باہر نکلتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ویڈیو کے بعد کرنل شومر کا یہ کہنا بلاجواز ہے کہ انھوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔







