یونان کو نیا بیل آؤٹ پیکیج دینے کے لیے معاہدہ طے پاگیا

،تصویر کا ذریعہAFP
یورو زون کے رہنماؤں کے مابین طویل مذاکرات کے بعد یونان کو نیا بیل آؤٹ پیکیج دینے کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز یونان کے بحران پر مشاورت کے لیے بلایا گیا یورپی یونین کا سربراہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا، تاہم یورو گروپ کے رہنماؤں کا اجلاس بلاتاخیر شروع ہوا جو کئی گھنٹے جاری رہنے کے بعد معاہدہ طے پانے کے بعد ختم ہوا۔
پیر کو یورپین کونسل کے چیئرمین ڈونلڈ ٹسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ معاہدہ متفقہ طور پر طے پایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا کہنا تھا کہ بیل آؤٹ پیکیج تیار ہے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ معاہدے میں سنجیدہ اصلاحات اور معاشی مدد فراہم کی گئی ہے۔
تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تفصیلات واضح طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
خیال رہے کہ یورو زون کے رہنماؤں کے درمیان 17 گھنٹے تک برسلز میں یونان کے معاملے پر ملاقات جاری رہی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
معاہدہ طے پا جانے کے بعد یورپیئن کونسل کے چیئرمین ڈونلڈ ٹسک کی جانب سے پریس کانفرنس بھی کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یونان کو یورو زون سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔
اب توقع کی جا رہی ہے کہ یونان کی پارلیمان بدھ کو یورو زون کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات کی منظوری دے گی۔
یونان کے علاوہ یورو زون میں شامل دیگر بہت سے ممالک کے پارلیمان نئے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دیں گے۔
بحران کی وجہ کیا بنی
- یونان سال 2018 تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قرض خواہوں سے مزید 53.5 ارب یورو مانگ رہا ہے تاہم نیا بیل آؤٹ پیکیج 74 ارب یورو تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اسے ایک بڑے قرض کو ادا کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔
- یونان کو اس سے پہلے ہی دو بیل آؤٹ پیکیجز میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 200 ارب یورو کا قرض دیا جا چکا ہے تاہم یونان 30 جون کو دوسرے بیل آؤٹ پیکیج کی قسط ادا نہیں کر سکا تھا۔
’سخت جنگ‘

،تصویر کا ذریعہepa
یونانی وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس نے معاہدہ طے پا جانے کے بعد کہا کہ ہم نے ایک سخت جنگ لڑی ہے، قرض کے اصول و شرائط طے کرنے میں جیت حاصل کی ہے اور پورے یورپ کو عزت اور وقار کا پیغام دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ مشکل ہے مگر ہم نے ملک کے اثاثوں کو باہر جانے سے روک لیا ہے۔
سنیچر کو ایسی اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ جرمن وزرا ایسے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں کہ اگر اس اختتام ہفتہ کے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ عارضی طور پر یونان کو یورو زون سے نکلنے کی اجازت دے دیں گے لیکن ایتھنز نے کہا ہے کہ اسے اس کا کوئی علم نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ 74 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکیج میں 16 ارب یورو آئی ایم ایف جبکہ 58 ارب یورو یورو زون کے فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔









