یونان میں عارضی انخلا کی سکت ہے؟

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, رابرٹ پیسٹن
- عہدہ, مدیر اقتصادی امور
اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ یونان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے یورو گروپ کی جانب سے شدید سست روی پر ایتھنز کے سیاستدان اور بینکرز سخت پریشان ہیں اور انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہوگیا کِیا۔
اس صورتحال میں یونانی سیاستدانوں اور بینکروں کے علاوہ لندن کے بڑے بڑے سرمایہ کار بھی سر پکڑے بیٹھے ہیں۔
ان لوگوں کی پریشانی کے بڑے بڑے اسباب ہیں کیا؟
سب سے بڑی پریشانی جرمنی کے وزیر خزانہ وولف گینگ شوابل کی یہ تجویز ہے کہ یونان کو عارضی طور پر یورو زون سے باہر نکال دیا جائے۔
اعلیٰ عہدوں پر فائز کچھ بینکروں نے مجھے بتایا کہ اس تجویز میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ یورو زون سے نکلنے اور یونان میں کوئی نئی کرنسی متعارف کرانے کے نہایت سنجیدہ معاملے پر یونان کے مرکزی بینک، اس کی حکومت، ملک کے نگران مالیاتی اداروں اور بینکوں کے سرکردہ افسران کے درمیان ابھی تک کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔
خاص طور اس تجویز کے تکنیکی پہلوؤں پر ابھی تک کوئی صلاح و مشورہ نہیں ہوا ہے۔
یہ بات نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ کئی لوگوں کی نظر میں یونان کے مندجہ بالا متعلقہ اداروں نے اس سلسلے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بدھ کی رات یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ آخرِ ہفتہ پر یونان کے معاملے پر جو بھی بات ہوئی تھی اس کا محور و مرکز یہی تھا کہ آیا یونان یورو زون میں رہے گا یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک سینیئر بینکر نے مجھے بتایا کہ ’سرکاری حکام کے ساتھ ہماری اس معاملے پر بالکل کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ اگر ہم یورو سے نکل جاتے ہیں تو ہماری حکمت عملی کیا ہوگی، خاص طور تکنیکی مسائل پر بھی کوئی بات نہیں ہوئی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں اس قسم کا کوئی صلاح و مشورہ نہیں ہوا ہے۔‘
’یونانی بینکوں پر یورو زون سے نکلنے کے اثرات بہت دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر یونان باہر نکل جاتا ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم کبھی دوبارہ اپنے بینک کھول بھی پائیں گے یا نہیں۔‘
اس سے ظاہر ہوتا ہے یونان کے انخلاء سے اس کے بینکوں پر کس قدر خوفناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب یورپ کے مرکزی بینک ’یورپی سینٹرل بینک‘ کے لیے بھی یہ صورت حال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہو گی۔
اس کی ایک وجہ تو بالکل واضح ہے۔ اس وقت سینٹرل بینک نے یونانی کمپنیوں اور رہائشی مکانوں کے لیے قرضوں کی شکل میں 50 ارب یورو کا قرض دے رکھا ہے۔
’بھاری نقصانات‘
اگر اس موقع پر یونان ڈریکما کی قسم کی کوئی نئی کرنسی متعارف کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یونانی عوام اور کاروباروں لوگوں کو اپنی تنخواہیں اور آمدن اس نئی کرنسی کی شکل میں ملیں گی اور جلد ہی یہ کرنسی یورو کے مقابلے میں اپنی قدر و قیمت کھو دے گی۔
لیکن دوسری جانب اِن گھرانوں اور کمپنیوں نے یورپی سینٹرل بینک سے جو قرضے لے رکھے ہیں وہ انھیں یورو میں ہی لوٹانا ہوں گے، نہ کہ اپنی نئی کرنسی میں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یورو کے مقابلے میں ان کی نئی کرنسی اپنی قدر کھو دے گی تو یونانی گھرانوں اور کپمنیوں کے لیے سینٹرل بینک کے قرضوں کی ادائیگی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔
اس سے سینٹرل بینک کو بھاری نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 50 ارب کے موجودہ قرضوں میں بینک کو 35 ارب یورو کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یہ سینٹرل بینک کی متوقع سردردیوں میں ایک سردردی ہے۔
اس کے علاوہ ایک بااثر سرمایہ کار کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرمن وزیرِ خزانہ کی یونان کے عارضی انخلاء کی تجویز سے یورپ کے مشترکہ کرنسی کے نظریے کو شدید دھچکا پہنچے گا۔
یونان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے سرمایہ کار یہ حساب لگانا شروع کر دیں گے کہ اب یورپ کا اگلا ملک کون ہو گا جو قرضوں کے بوجھ کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو جائے اور پھر عارضی طور پر یورو زون سے نکلنے کی بات کر دے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کے سرمایہ کار ان ممالک سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیں گے جن کے بارے میں انھیں شک ہوگا کہ یہ ممالک معاشی لحاظ سے مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں اور جب سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالیں گے تو مذکورہ ملک سے باقی لوگ بھی اپنے پیسے نکالنا شروع کر دیں اور ملک مزید مشکلات میں گھِر جائے گا اور وہاں خوشحالی کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے۔
یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہمیں لگتا ہے کہ شاید اتوار کی نصف شب سے چند سیکنڈ پہلے یورو گروپ کے وزراء خزانہ اور ان کی حکومتیں اس بات پر اتفاق کر لیں کہ تمام تر خرابیوں کے باوجود بھی یونان کا عارضی انخلاء کوئی اچھی بات نہیں ہو گی۔
سچ پوچھیں تو میرا دل نہیں مانتا کہ اس امکان پر کوئی بڑی شرط لگا دوں۔








