پوری کوشش کی جائے گی کہ یونان یورو زون میں رہے: فرانس

یونان کے بحران پر یورو زون کے رکن ممالک کا اجلاس برسلز میں منعقد ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیونان کے بحران پر یورو زون کے رکن ممالک کا اجلاس برسلز میں منعقد ہو رہا ہے

یونان کے وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس منگل کو یورپی رہنماؤں کے سامنے قرضوں کے بحران کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں یونان کے موجود قرضوں میں سے 30 فیصد کی معافی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ فرانس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ یونان یورو زون سے باہر نہ ہو کیونکہ ایسا کرنے دینا نہایت خطرناک ہو گا۔

برسلز میں ہونے والے مذاکرات سے قبل انھوں نے کہا ’معاہدے ہونے کے امکانات ہیں۔‘

تاہم جرمنی نے غیر مشروط طور پر قرضے کو معاف کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا۔

یونانی وزیرِ اعظم تسیپراس ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں قرضوں کی معافی کا اختیار موجود ہو۔

اطلاعات کے مطابق یونان کی جانب سے جو تجویز پیش کی جا رہی ہے اس کے مطابق 323 بلین یورو کے قرضوں میں 30 فیصد کمی کی جائے اور اس کی ادائیگی میں 20 سال کا وقفہ ہو۔

منگل کو یونان کے بحران پر یورو زون کے رکن ممالک کا اجلاس برسلز میں منعقد ہو رہا ہے۔

اس اجلاس سے قبل جرمنی اور فرانس نے یونان پر زور دیا ہے کہ وہ یورو زون سے اخراج سے بچنے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس تجاویز دے۔

یونانی عوام نے اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں عالمی قرض دہندگان کی جانب سے مزید قرض کے لیے عائد کفایت شعاری کی شرائط کو بھاری اکثریت سے رد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

وہ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے اس جائزے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یونان کے 300 ارب یورو سے زیادہ کے قرضے کی ’ری سٹرکچرنگ‘ ضروری ہے۔

تاہم جرمنی کے نائب چانسلر اور وزیرِ معیشت سگمار گیبریئل نے متنبہ کیا ہے کہ قرضوں کی غیر مشروط معافی یورو کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں پرامید ہوں کہ یونانی حکومت اگر دوبارہ مذاکرات چاہتی ہے تو وہ یہ قبول کرے گی کہ یورو کے 18 رکن ممالک غیرمشروط معافی کے خیال پر عمل نہیں کر سکتیں۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ اگر ایک ملک کو یہ موقع دیا گیا تو باقیوں کو کیسے انکار کیا جا سکے گا اور یہ فیصلہ یورو زون کو توڑ کر رکھ دے گا۔

یونانی بینکوں کی بندش جاری

ادھر یونان کے بینکوں کے پاس سرمایہ ختم ہو رہا ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔

یونانی وزیرِ اعظم تسیپراس ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں قرضوں کی معافی کی آپشن ہو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونانی وزیرِ اعظم تسیپراس ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں قرضوں کی معافی کی آپشن ہو

حکام نے انھیں مزید دو دن یعنی بدھ تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ عوام پر رقوم نکالنے کے سلسلے میں عائد پابندیاں بھی نافذ رہیں گی۔

یونان میں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے بند بینکوں کو ابتدائی طور پر منگل کو بینک کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب یونانی بینکنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ لوکا کاتسیلی نے کہا ہے کہ پیر کو ہونے والی بات چیت کے بعد اس مدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے یونانی بینکوں کے لیے مختص ہنگامی رقم بڑھانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں موجودہ 89 ارب یورو کے ہنگامی قرضوں کے لیے بھی مزید ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔

ایسا کرنے کی صورت میں یونانی بینکوں کے پاس موجود اضافی نقدی میں کمی آئے گی۔

بی بی سی کے معاشی مدیر رابرٹ پیٹسن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ وقت آ گیا ہے کہ جب یونان کی بینکاری کا نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

یونان کی واجب الادا رقوم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیونان کی واجب الادا رقوم

یورپی مرکزی بینک کے فیصلے سے قبل یونان کے وزیرِ اقتصادیات جیورجیوس ستاتھاکس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی بی کو آئندہ سات سے دس دن تک یونانی بینکوں کو رقوم فراہم کرنی چاہییں تاکہ اس دوران بات چیت جاری رہ سکے۔

خیال رہے کہ یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یونان کی معیشت میں بہتری کے لیے سخت شرائط اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اب ہم یونانی حکام کی جانب سے پہل کے منتظر ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونانی حکومت کو اپنے عوام کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے ’ذمہ داری اور ایمان داری‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔