یونان میں بیل آؤٹ پیکج ریفرینڈم میں ’نہ‘ کو برتری

،تصویر کا ذریعہReuters
یونان میں معاشی بحران کے حل کے لیے بیل آؤٹ پیکج کو منظور کرنا یا مسترد کرنے کے لیے ریفرینڈم میں ابتدائی تنائج کے مطابق ’نہ‘ کو برتری حاصل ہے۔
نصف سے زائد ووٹوں کی گنتی کی جاچکی ہے۔
وزیرداخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج میں ابھی تک گنتی کیے گئے ووٹوں میں ’نہ‘ کو 61 فیصد اور ’ہاں‘ کو 39 فیصد ووٹ ملے۔
واضح رہے کہ ریفرینڈم کے ابتدائی جائزوں کے مطابق ملک میں کفایت شعاری کی پالیسیاں جاری رکھنے یا انھیں مسترد کرنے پر یونانی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
یونان کے صدر کا کہنا ہے اس موقعے پر یونان کو متحد رہنا ہے۔
پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شام سات بجے تک جاری رہی۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں ریفرینڈم میں حصہ لیا۔ رائے عامہ کے جائزے میں 51.5 فیصد افراد نے ’نہ‘ میں ووٹ دیا اور 48.5 فیصد افراد نے ’ہاں‘ میں ووٹ دیا۔ عوامی رائے جاننے کے لیے اس پول میں تقریباً دو ہزار افراد سے بذریعہ فون رائے پوچھی گئی۔
یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شیلز نے کہا ہے کہ ریفرینڈم کے نتائج چاہے کچھ بھی ہوں، یورپ یونانیوں کو ’بے یارومددگار‘ نہیں چھوڑے گا۔
اٹلی کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ریفرینڈم میں نتیجہ کچھ بھی ہو، یونان اور یورپی یونین کے درمیان بات چیت آئندہ ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونان میں بائیں بازو کی سخت گیر جماعت کی حکومت نے عوام سے قرض خواہوں کی شرائط کو مسترد کرنے یعنی ’نہیں‘ کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔دوسری جانب یورپی یونین کے رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ریفرینڈم میں ’نہیں‘ کی جیت ہوتی ہے تو یونان یورو زون سے نکل جائے گا۔
اتوار کو یورپی پارلیمان کے صدر نے کہا کہ ممکن ہے کہ یورپ یونان کو ہنگامی قرضے فراہم کر دے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یورپی پارلیمان کے سربراہ مارٹن شلز نے جرمنی کے اخبار کو بتایا کہ ایتھنز کی حکومت قرضوں پر انحصار کرنے والے ملک کو ’بند گلی میں لے آئی ہے اور ممکن ہے کہ ہم انھیں ہنگامی قرضے جاری کر دیں تاکہ یونانی حکومت عوامی خدمات جاری رکھ سکے اور ضرورت مند افراد کا گذر بسر ہو سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ ان کاموں کے لیے برسلز قلیل مدت کے لیے رقم دے سکتا ہے۔‘
تاہم یورپی پارلیمان کے صدر نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔
یورپی پارلیمان کے صدر کی جانب سے ہنگامی قرضے کی فراہمی کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یونانی اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرت کی ناکامی کے بعد تجویز کی گئی شرائط پر ریفرینڈم میں ووٹنگ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یونان کے وزیر خزانہ یانس واروفاکس نے سنیچر کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ یورپی یونین کے پاس یونان کو یوروزون سے نکالنے کا ’کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘
انھوں نے ریفرینڈم سے ایک دن قبل ایتھنز کو قرض دینے والوں پر ’ خوف و ہراس‘ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
سپین کے اخبار ’ال منڈو‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یونان کو قرض دینے والے بین الاقوامی قرض خواہ ’لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

وزیر خزانہ نے کہا ’انھوں نے ہمیں ہمارے بینک بند کرنے کے لیے کیوں مجبور کیا؟ لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے، خوف و ہراس پھیلانا دہشت گردی کہلاتا ہے۔‘
یونان کے بیل آؤٹ پیکیج پر ریفرینڈم سے پہلے دارالحکومت ایتھنز میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کو ہزاروں افراد نے شرائط کے حق اور اس کی مخالفت میں جلوس نکالے۔
ملک کی اعلیٰ عدالت نے ریفرینڈم کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور دارالحکومت میں ریفرینڈم میں قرض خواہوں کے حق اور مخالفت میں ہزاروں افراد دو مختلف مقامات پر اکٹھا ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شرائط کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کی نفی کرنے والوں سے جھڑپ ہوئی جس پر پولیس نے قابو پا لیا۔
اس سے پہلے یونان کے وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیل آؤٹ کے لیے اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں ’بلیک میلنگ‘ کو مسترد کر دیں۔
دریں اثنا جرمنی کے وزیر خزانہ وولف گینگ شاؤبل جو یونان کے سخت ناقد ہیں نے کہا ہے کہ اگر یونان کو یوروزون چھوڑنا پڑا تو یہ عارضی ہو سکتا ہے۔
انھوں نے جرمن اخبار بلڈ کو بتایا ’یونان یوروزون کا رکن ملک ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ کیا وہ یورو کے ساتھ رہیں گے یا پھر عارضی طور پر اس کے بغیر اس بارے میں صرف یونانی فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ہم عوام کو مصیبت میں نہیں چھوڑ سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ یورپیئن کمیشن، آئی ایم ایف اور یورپیئن سینٹرل بینک کے ساتھ یونان کے حالیہ بیل آؤٹ پروگرام کی آخری مدت گذشتہ منگل کو ختم ہوئی جس کے بعد پورے ہفتے بینک بند رہے اور رقم نکالنے پر ایک حد قائم کر دی گئی۔
یونان کے وزیر خزانہ یانس واروفاکس کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو منگل سے بینک کھل جائیں گے اور وزیر اعظم ایلکسس تسیپراس ریفرینڈم میں ’نو کی جیت‘ کے بعد بھی قرض خواہوں کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے اہل ہوں گے۔







