اب ہم یونانی حکام کی جانب سے پہل کے منتظر ہیں: یورپی یونین

،تصویر کا ذریعہGetty images
یونان میں بیل آؤٹ پیکیج پر ریفرینڈم میں قرض دہندگان کی تجاویز مسترد کرنے کے بعد یورو زون کے وزرائے خزانہ کا کہنا ہے کہ ان کو توقع ہے کہ یونان قرضے کی ادائیگی کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کرے گا۔
یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے ریفرینڈم کے نتائج کو ’یونان کے لیے قابلِ مذمت‘ قرار دیا۔
یورو زون کے وزرائے خزانہ نے یونان کے معاملے پر منگل کو ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔
<link type="page"><caption> یونان میں ’نہ‘ کا جشن</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/07/150705_greece_picture_gallery_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل یونان کے وزیرِ خزانہ یانس واروفاکس نے یہ کہتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا کہ عالمی مذاکرات کار یونان کی جانب سے انھیں مذاکراتی ٹیم میں دیکھنے کے خواہاں نہیں۔
اسی دوران یورپی سینٹرل بینک یونان کے بینکوں کو ہنگامی رقوم فراہم کرنا یا نہ کرنے کے فیصلے پر غور کر رہا ہے۔ یونان کے بینکوں کے پاس سرمایہ ختم ہو رہا ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔
یورپی کمیشن کے صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یونان کی معیشت میں بہتری کے لیے سخت شرائط اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اب ہم یونانی حکام کی جانب سے پہل کے منتظر ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فی الوقت کسی نئے بیل آؤٹ پیکیج پر بات کرنے کا کوئی ’جواز‘ نہیں بنتا اور اس بارے میں فیصلہ یونان کو کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جرمن چانسلر کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ اب یونان پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ یونانی حکومت اپنی یورپی ساتھیوں کے سامنے کیا تجاویز پیش کرتی ہیں۔‘
چانسلر میرکل پیر کو فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند سے بھی پیرس میں ملاقات کریں گی۔
برسلز میں یورپی کمیشن کے نائب صدر نے پریس کانفرنس میں بتایا یورپی کمیشن کے صدر نے کہا ہے کہ یونان کی حکومت کو عوام کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے ’ذمہ داری اور ایمان داری‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ریفرینڈم میں ’نہ‘ کے حق میں ووٹ دینے سے یورو زون میں شامل ممالک اور یونان کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
’بحران سے نکلنے کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔ بہت سا وقت اور کئی مواقع پہلے ہی ضائع ہو گئے ہیں۔‘
یورپی کمیشن کے نائب صدر نے کہا کہ اس سب کے باوجور یورو زون کے استحکام پر کوئی سوال نہیں اٹھائے جائیں۔’ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہمیں حالات کو بہتر کرنا چاہیے۔‘
یونان کے وزیر اقتصادیات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی سینٹرل بینک کو آئندہ سات سے دس دنوں تک یونان کے بینکوں کو رقوم فراہم کرنی چاہییں تاکہ اس دوارن بات چیت جاری رہ سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یونان گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کی ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی قسط ادا کرنے میں ناکام رہا تھا جبکہ یورپی سینٹرل بینک کی ہنگامی فنڈنگ بند ہونے کے بعد زیادہ تر یونانی بینک گذشتہ پیر کو بند کر دیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ کیش مشینوں سے ایک دن میں صرف 60 یورو تک ہی نکالے جا سکتے ہیں، البتہ پینشنر 120 یورو تک نکال سکتے ہیں۔







