جاپان میں خودکشی کی شرح بلند کیوں؟

،تصویر کا ذریعہthinkstock
گذشتہ سال جاپان میں 25 ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کی تھی۔ یعنی روزانہ 70 افراد۔ ان میں زیادہ تعداد مردوں کی تھی۔
تاہم ترقی یافتہ ممالک میں خودکشی کی بلند ترین شرح والے میں ممالک جاپان سرفہرست نہیں ہے۔ اس فہرست میں پہلا نام جنوبی کوریا کا ہے۔ تاہم پھر بھی یہ شرح بظاہر دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔
خودکشی کی یہ شرح برطانیہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
منگل کو جاپان میں ایک بلٹ ٹرین میں 71 سالہ شخص کی خودسوزی کے بعد یہ موضوع ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔
ایسا کیا تھا جس کی بنا پر ایک خاموش طبع، ضعیف شخص نے تیز رفتار ٹرین میں خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی؟
اطلاعات کے مطابق جب اس نے اپنے اوپر مائع گرایا تو اس نے دیگر مسافروں کو یہ بتاتے ہوئے اپنے سے دور کر دیا کہ یہ خطرناک ہے۔
کچھ کا کہنا تھا کہ جب وہ ایسا کر رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اب جاپانی میڈیا سے منسلک افراد اس شخص کے پس منظر کے بارے میں جاننا شروع کر رہے ہیں۔ وہ تنہا رہتا تھا اور بے روزگار تھا۔ وہ دن بھر ایلومینیم کے ڈبے جمع کرتا رہتا تھا تاکہ انھیں بیچ سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسے اپنے شکستہ حال مکان میں خود کو بند کرکے کھڑکی پیٹتے ہوئے سنا تھا۔
دیگر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اسے گھر سے باہر بہت کم دیکھا تھا، لیکن اکثر ٹی وی چلنے آواز سنی تھی۔ غریب، ضعیف اور تنہا۔ یہ تمام جانے پہنچانے پہلو ہیں۔
ٹوکیو کی ٹیمپل یونیورسٹی کے ماہر نفسیات وتارو نیشیدا کہتے ہیں: ’ڈپریشن اور خودکشی کی سب سے بڑی وجہ تنہائی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں: ’اپنے گھروں میں ضعیف افراد کے تنہائی میں مرنے کے بارے میں اب زیادہ سے زیادہ خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ انھیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ پرانے وقتوں میں جاپان میں بچے اپنے والدین کا خیال رکھتے تھے، اب ایسا نہیں ہے۔‘
لوگ اکثر جاپان میں ’باعزت خودکشی‘ کی قدیم روایت کو بھی خودکشی کی بلند شرح کو قرار دیتے ہیں۔
وہ سمورائی کے ’سپیوکو‘ کے عمل کرنے یا سنہ 1945 میں نوجوان ’کامی کازی‘ پائلٹوں کے بارے میں بات میں کرتے ہیں، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ جاپان میں اپنی جان لینے کی ثقافتی وجوہات ہیں۔
وتارو نیشیدا اس امر سے کسی حد تک اتفاق کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’جاپان میں عیسائیت کی کوئی تاریخ نہیں رہی ہے۔ اس لیے یہاں خودکشی گناہ نہیں۔ درحقیقت، کچھ لوگ اسے ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہthinkstock
جاپان ہیپ لائن کے کین جوزف اس امر سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ان کے 40 سالہ تجربے کے مطابق مالی مشکلات کا شکار ضعیف افراد خودکشی کو اپنی مشکلات سے چھٹکارے کا راستے سمجھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’جاپان میں خودکشی سے بعد رقوم کی ادائیگی کے حوالے سے انشورنس کا نظام بہت نرم ہے۔‘
’چنانچہ جب تمام راستے بند ہوجاتے ہیں تو کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو ختم کر دو اور انشورنس ادائیگی کر دے گی۔‘
’بعض اوقات بزرگوں پر اتنا ناقابل برداشت دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جان لے لیتے ہیں اور اپنے خاندان کو ادائیگی کر دیتے ہیں۔‘
کچھ ماہرین کے خیال میں جاپان میں خودکشی کی شرح رپورٹ کیے گئے اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔
بہت سارے ضعیف افراد کی تنہائی میں موت کی پولیس تفتیش نہیں کرتی۔
کین جوزف کے مطابق مرنے کے بعد جسم کو جلا دینے کے عمل کا مطلب یہ بھی ہے کہ تمام ثبوت ضائع جاتے ہیں۔
لیکن مالی مشکلات کے باعث اپنی جان لینے کا مسئلہ صرف ضعیف شہریوں تک محدود نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہthinkstock
جاپان میں نوجوان مردوں کی خودکشی کی شرح بھی بلند ہے۔ جن میں بیشتر کی عمر 20 سے 44 سال کے درمیان ہے۔
حقائق کے مطابق نوجوان افراد اس لیے خودکشیاں کر رہے ہیں کہ وہ امید کھو چکے ہیں اور کوئی مدد حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
سنہ 1988 میں ایشیا میں اقتصادی بحران کے دوران پہلی بار خودکشی کی بلند شرح دیکھی گئی۔ سنہ 2008 میں عالمی اقتصادی بحران کے دوران ایک بار پھر خودکشی کی شرح بلند ہوئی۔
ماہرین کے خیال میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح کا براہ راست تعلق ’غیرمستحکم ملازمتوں‘ سے ہے، یعنی نوجوان کی مختصر کنٹریکٹ کی ملازمتیں۔
جاپان کسی وقت میں تاحیات ملازمت کی وجہ سے مشہور تھا۔ بہت سارے عمررسیدہ افراد اب بھی محفوظ ملازمتوں اور فوائد سے مستفید ہورہے ہیں، تقریباً 40 فیصد نوجوان مستحکم ملازمتیں حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
اقتصادی عدم استحکام اور عدم تحفظ کے تناظر میں جاپانی ثقافت میں شکایت نہ کرنے کی رجحان پایا جاتا ہے۔
نیشیدا کہتے ہیں: ’جاپان میں اپنے غصے کے اظہار کے لیے زیادہ راستے نہیں ہیں۔‘
’یہ ایک اصولوں میں جکڑا معاشرہ ہے۔ نوجوان لوگوں کو ایک چھوٹے سے ڈبے میں بند ہونے کے لیے قائل کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘
’اگر وہ اپنے باس کی جانب سے دباؤ کا شکار محسوس کریں یا ڈپریشن کا شکار ہو جائیں تو کئی افراد مرنے کو ہی واحد راستہ سمجھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہthinkstock
ٹیکنالوجی نے حالات مزید بدتر بنا دیے ہیں، جس نے نوجوانوں کو مزید تنہائی کا شکار بنا دیا ہے۔ جاپان میں اس حالت کو ’ہکیکوموری‘ کا نام دیا ہے۔
ایسے متاثرہ افراد جو عموما مرد ہوتے ہیں، اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیتے ہیں، باہر کی دنیا سے روابط ختم کر دیتے ہیں اور کمرے سے مہینوں یا برسوں تک باہر نہیں آتے۔
لیکن دنیا بھر میں پھیلی آمنے سامنے بات نہ کرنے کی صورت حال کی یہ سخت ترین شکل ہے۔
نوجوان جاپانیوں کے رومانوی اور جنسی تعلقات کے بارے میں کیے گئے حالیہ سروے میں بھی غیرمعمولی نتائج سامنے آئے ہیں۔ جنوری میں جاپان فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کی جانب سے شائع ہونے والے سروے میں 25 سے 29 سال کے درمیان 20 فیصد مردوں کو جنسی تعلقات قائم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
نیشیدا اس کا اشارہ انٹرنیٹ کی طرف کرتے ہیں اور اسے آن لائن پورنوگرافی کا اثر قرار دیتے ہیں۔
نیشیدا کہتے ہیں: ’جاپان میں نوجوان افراد کے پاس بہت زیادہ علم ہے۔ لیکن انھیں زندگی کا تجربہ نہیں ہے۔ انھیں بالکل علم نہیں ہے اپنے جذبات کا اظہار کیسے کرنا ہے۔‘
’وہ بھول چکے ہیں کسی کو چھونا کیسا ہوتا ہے۔ وہ جب سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں تو پریشان ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم نہیں کہ اس مسئلے سے کیسے نبردآزما ہوا جائے۔‘
اور جب نوجوان افراد تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہوجائیں تو ان کے پاس بہت کم راستے رہ جاتے ہیں۔
دماغی مرض کو تاحال ’ممنوعہ‘ سمجھا جاتا ہے۔ ڈپریشن کے بارے میں شعور بہت کم رکھتے ہیں۔ جو ان علامات کا شکار ہوتے ہیں وہ اس بارے میں بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جاپان میں ذہنی صحت کا نظام بھی ٹھیک نہیں ہے۔ وہاں ماہرینِ نفسیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ کلینیکل ماہرینِ نفسیات اور دماغی علاج کے ماہرین کے ایک ساتھ کام کرنے کا رجحان نہیں پایا جاتا۔
ذہنی مرض کا شکار افراد کے لیے ذہنی حالت کی اصلاح کی ادویات تجویز کی جاتی ہیں لیکن عموما مغربی ممالک کے برعکس اس کے ساتھ مریض کی کونسلنگ نہیں کی جاتی۔
کونسلنگ کا شعبہ بذات خود سب کے لیے بلامعاوضہ ہے۔
امریکہ اور یورپ کے برعکس کلینیکل ماہر نفسیات کے لیے حکومت کی جانب سے تربیت اور قابلیت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنے آپ کو ’کونسلر‘ یا مشیر کہہ سکتا ہے اور مدد طلب کرنے والے کسی شخص کو درحقیقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
یہ کوئی خوش آئند پہلو نہیں ہے، اور اب جبکہ گذشتہ تین برسوں میں خودکشی کی شرح کم ہونا شروع ہوئی ہے اس کے باوجود یہ شرح خاصی بلند ہے۔
وتارو نیشیدا کہتے ہیں: ’جاپان کو اب ذہنی امراض کے بارے میں کھل کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔‘
’آپ جاپان میں ٹی وی پر ذہنی امراض کے متعلق گفتگو دیکھتے ہیں تو وہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے ‘ڈپریشن خودکشی کے برابر ہے۔‘ اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘







