جاپان اور برطانیہ پر معاشی بحران کے سائے

،تصویر کا ذریعہPA
برطانوی وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کی صورت حال پر ایک مرتبہ پھر ’خطرے کی سرخ بتی‘ جلنا شروع ہو گئی ہے، جبکہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان میں بھی معاشی بدحالی کے آثار ایک مرتبہ پھر بڑھ گئے ہیں۔
دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے مالک ممالک کے گروپ ’جی 20‘ کے سربراہ اجلاس کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’ عدم استحکام کی خطرناک لہر کی وجہ سے برطانوی معیشت کی بحالی خطرے میں پڑ گئی ہے اور ہمیں ’چاہیے کہ ہم معیشت کی بحالی کے طویل مدتی منصوبے پر قائم رہیں۔‘
روزنامہ گارڈین میں ایک مضمون میں برطانوی وزیر اعظم نے دنیا بھر میں جاری تنازعات، شرح نمو میں کمی اور یورپی معیشت کے ’بدحالی کے دہانے پر کھڑے‘ ہونے جیسے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بحران کے محض چھ سال بعد عالمی معیشت پر ’ایک مرتبہ پھر سرخ بتی نے جلنا بجھنا شروع کر دیا ہے۔‘
ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ’بیروزگاری، گرتی ہوئی شرح نمو اور قیمتوں میں مزید گراوٹ کی وجہ سے یورو زون تیسری مرتبہ معاشی بدحالی کا شکار ہو سکتا ہے۔
’حالیہ معاشی بہتری کے ابتدائی برسوں میں دنیا کی نئی بڑی معیشتوں میں ترقی کی وجہ سے جو بہتری دیکھنے میں آئی تھی، وہ بھی ان معیشتوں کی رفتار کم ہو جانے کی وجہ سے خراب ہو رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی وزیر اعظم کے بقول ’ایبولا کی وبا، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور یوکرین میں روس کے غیر قانونی اقدامات سے ’معاشی عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
ڈیوڈ کیمرون نے یہ مضمون ایک ایسے وقت میں لکھا ہے جب وہ آسٹریلیا میں جی 20 کی سربراہ کانفرنس میں یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر زور دے کر آ رہے ہیں۔
ادھر دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان میں بھی مسلسل دو سہ ماہیوں سے ملکی معیشت سکڑ رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان تکنیکی زبان میں ایک مرتبہ پھر معاشی بدحالی (ریسیشن) کا شکار ہو چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیشن گوئی تھی کہ جولائی تا ستمبر کے عرصے میں جاپان کی معیشت میں 2.1 فیصد کا اضافہ ہوگا، لیکن اس کے برعکس مذکورہ سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار میں 1.6 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
جاپانی معیشت میں اس کمی سے پہلے سنہ 2014 کی دوسری سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار 7.3 فیصد سکڑ چکی تھی، جو کہ مارچ 2011 کے زلزلے اور سونامی کے بعد جاپانی معیشت میں سب سے بڑی کمی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی قومی پیداوار میں اس مسلسل کمی کے بعد اس بات کے امکانات کم ہو گئے ہیں کہ وزیر اعظم شنزو آبے اپنے سیلز ٹیکس میں اضافے کے منصوبے پر عمل کر سکیں گے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اب لگتا ہے کہ وزیر اعظم وقت سے پہلے انتخابات کا انعقاد کرا کے سیلز ٹیکس میں اضافے کے لیے نئی عوامی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ واضح رہے کہ جاپان میں انتخابات سنہ 2015 میں ہونا ہیں۔







