بھارت: دس سال میں معاشی ترقی کی شرح سب سے کم

بھارت معیشت
،تصویر کا کیپشنبھارتی معیشت میں ترقی کی شرح میں کمی کا سبب مینوفیکچرنگ شعبے میں گراوٹ کو قرار دیا جا رہا ہے

بھارت میں گذشتہ دس سالوں میں مالی سال دو ہزار بارہ تیرہ کے دوران معاشی ترقی کی شرح سب سے کم رہی ہے۔

بھارت میں مالی سال دو ہزار بارہ اور تیرہ کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران معاشی ترقی کی شرح بہت کم ہو گئی ہے۔

اس سے قبل رواں مالی سال کے دوران بھارت کی ترقی کی شرح پانچ فی صد سے زیادہ رہی تھی لیکن مالی سال کی آخری سہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ 2013 کے دوران ملک کی ترقی کی رفتار کم ہوکر چار اعشاریہ آٹھ فی صد رہ گئی ہے۔

صرف دو سال پہلے تک بھارت میں ترقی کی شرح نو فی صد سالانہ ہوا کرتی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں اس میں کافی تیزی سے کمی آئی ہے۔

اس کا سبب مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے میں سست رفتاری کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کار بھی اقتصادیات کے شعبے میں اہم اصلاحات میں تاخیر کے سبب وہاں سرمایہ کاری سے گریزاں ہی رہے ہیں۔

سٹیٹیسٹکس کی وزارت سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق بھارتی مینوفیکچرنگ شعبے میں رواں سال کی آخری سہ ماہی میں ترقی کی رفتار 6۔2 فی صد رہی جبکہ شعبۂ زراعت کی کارکردگی میں ترقی کی شرح محض 4۔1 فی صد اضافہ رہا۔

یہ اعدادوشمار سرکاری تخمینے کے مطابق ہیں۔

سست روی کے شکار معیشت کی بحالی میں درپیش مسائل کے تحت فروری میں بھارت نے اپنی ترقی کی رفتار کو رواں سال میں پانچ فی صد تک رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

گزشتہ مہینے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ معاشی ترقی میں آنے والی حالیہ گراوٹ ’عارضی‘ ہے اور انہیں اس بات پر پورا اعتماد ہے کہ معاشی ترقی میں بہتری آئے گی اور وہ واپس ’آٹھ فی صد سالانہ کی رفتار‘ پر واپس آ جائے گی۔

ان کے اس پراعتماد بیان کے بعد بھی کاروباری برادری کے درمیان کوئی جوش پیدا نہیں ہو سکا اور انڈسٹری کے بڑے اور سرکردہ افراد میں قیمتوں کی بڑھتی شرح پر تشویش پائی جاتی ہے۔