’ہنگری پناہ گزینوں کو واپسی کی اجازت دینے سے انکاری‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ہنگری نے یورپی یونین کے اس اہم قانون پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے جس کے تحت اسے ان پناہ گزینوں کو واپس ملک میں داخلے کی اجازت دینی ہے جو ہنگری میں آنے کے بعد کسی دوسرے ملک چلے گئے تھے۔
حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ہنگری پر غیر قانونی تارکین وطن کا زبردست بوجھ ہے۔
ہنگری کی حکومت نے حال ہی میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کو روکنے کے لیے اپنی سرحد پر دیوار بنانا چاہتا ہے۔
ہنگریئن حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک غیر قانونی طور 60 ہزار سے زیادہ افراد ملک میں داخل ہوئے ہیں۔
ہنگری حکومت کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ ’ہنگری نے اپنی اہلیت کا استعمال کیا ہے۔ حالات تیز کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان ابتر حالات میں ہنگری کو یورپی یونین سے پہلے کوئی فیصلہ کرنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی یونین نے ہنگری کی حکومت سے اس بارے میں فوری وضاحت طلب کی ہے۔
یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہنگری نے کہا ہے کہ پناہ گزین کو واپس لینے کو معطل کیے جانے کے فیصلے کی تکنیکی وجہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’کمیشن نے تنکیکی خامیوں کے بارے میں ہنگری سے فوری وضاحت طلب کی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پناہ گزینوں کے بارے میں یورپی یونین کے ڈبلن ریگولیشن کے ایک اصول کو ہنگری کی حکومت نے معطل کر دیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پناہ گزین کی درخواست کو جانچنے کی ذمہ داری اس یورپی یونین کے ملک پر ہے جہاں پناہ گزین سب سے پہلے پہنچا تھا۔
اگر پھر پناہ گزین دوسرے یورپی ملک چلاجاتا ہے تو انھیں پہلے داخل ہونے والے ملک واپس بھیجا جا سکتا ہے تاکہ وہاں ان کے پناہ حاصل کرنے کے دعوے کی جانچ ہو سکے۔
خیال رہے کہ ڈبلن ضابطہ یورپی یونین میں تنازع کا موجب رہا ہے اور یہ نظر ثانی کے لیے زیر غور ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
فن لینڈ اور جرمنی ان متعدد ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے پناہ گزینوں کو یونان واپس بھیجنا اس وقت بند کر دیا جب یونان نے شکایت کی کہ ان کے یہاں پناہ حاصل کرنے والوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ منگل کو کیا جانے والا اعلان ہنگری کی حکومت کی جانب سے پناہ گزین مخالف تازہ بیان بازی ہے۔
اس نے پہلے ہنگری نے سربیا کی سرحد پر 175 کلومیٹر لمبی دیوار بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ہنگری میں حکومت کی جانب سے ایک مہم نظر آئی جس میں لکھا تھا کہ ’اگر آپ ہنگری آتے ہیں تو ہنگری کے باشندوں کے روزگار نہ چھینیں۔‘
اس پوسٹر مہم پر بھی تنازع اٹھا تھا جسے حکومت کی جانب سے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کہا جا رہا ہے اور ملک میں امیگریشن کے سخت قانون متوقع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
رواں سال جنوری اور مارچ کے درمیان ہنگری کو پناہ حاصل کرنے والوں کی 32810 نئی درخواستیں موصول ہوئیں جو کہ جرمنی کے بعد کسی بھی یورپی ملک میں داخل کی گئی سب سے زیادہ تعداد ہے۔







