موصل کے لوگ گھر لوٹنے کو ترس رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, اورلا گیرن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، شمالی عراق
جس روز آسمان صاف ہو، اُس دن شمالی عراق میں کوہِ زردک سے آپ کو ایک شاندار نظارہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نگاہ دوڑانے پر نینوا کا ذرخیز میدانی علاقہ اور دور جگمگاتا موصل کا شہر۔
مگر گذشتہ ایک سال سے موصل اور اس کے نواخی دیہات دولتِ اسلامیہ کے شکنجے میں ہیں۔ ہمیں ان کے ایک دفتر سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا تھا۔
ہم جہاں اس نظارے کا مزہ لے رہے تھے، ہمیں تنبیہ کی گئی کہ ادھر شدت پسند بھی ہمیں دیکھ رہے ہیں۔
کردش پیشمرگاہ فورسز کے بریگیڈیئر عدل راس نے ہمیں بتایا ’وہ ہم سے ایک کلومیٹر دور ہیں۔ جب انھیں اس طرف زیادہ لوگ نظر آتے ہیں وہ مشین گن سے فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔‘
گذشتہ ستمبر میں جب بریگیڈیئر صاحب اور ان کے فوجیوں نے اس پہاڑ پر قبضہ کیا تو ان کے آٹھ ساتھی ہلاک ہوئے تھے۔ انھوں یہ امید نہ تھی کہ دس ماہ بعد بھی وہ موصل کو دور سے ہی دیکھ رہے ہوں گے۔
نینوا کا میدانی علاقہ پہاڑ کے دامن پر پھیلا ہوا ہے۔ ’اس وقت منصوبہ تھا کہ جتنا جلدی ہو سکے موصل کو آزاد کروایا جائے۔ مگر اس کا انحصار بین الاقوامی اتحاد، عراقی حکومت اور ہمارے مقامی رہنماوں پر ہے۔ اسی لیے تاخیر ہوئی ہے۔ وگرنا کوئی منصوبہ ہو تو ہم جا کر اس شہر کو آزاد کروا سکتے ہیں۔‘`
مگر ابھی بریگیڈیئر صاحب کو منصوبے اور ہتھیاروں کا انتظار ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ہر روز ہم ہتھیاروں کی کمی دیکھتے ہیں۔ ہمارے پاس صفِ اول کے لیے ہتھیار کافی نہیں ہیں اور ہمیں بھاری ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔‘
ان کے سپاہیوں کو فروری سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہے کیونکہ اس حوالے سے علاقائی کرد حکومت اور بغداد کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر کردوں کو دولتِ اسلامیہ پر ایک برتری ہے، اتحادی فورسز کے فضائی حملے۔ وہ پیشمرگاہ فوجوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
بریگیڈیئرکا کہنا ہے کہ وہ 20 منٹ میں فضائی حملہ کروا سکتے ہیں اور اس کی وجہ مقامی سطح پر موجود کینیڈا کے عسکری مشیروں کے ساتھ روابط بتاتے ہیں۔ ہمارے دورے میں پر ہمیں ان کی ایک جھلک نظر آئی۔
پیشمرگاہ فورسز اپنے محاذ پر امریکی قیادت میں کی جانے والے فضائی حملوں کی مدد سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہاں بہت سے فوجیوں کے لیے یہ لڑائی ایک ذاتی معاملہ ہے۔ ہمارا ایک پیشمرگاہ گائیڈ رشید زیباری کا تعلق خود موصل سے ہے۔
وہ کہتا ہے ’میں پیدائش سے اب تک، 33 سال اس شہر میں رہا ہوں۔ جب دولتِ اسلامیہ آئی تو ہم جان بچا کر وہاں سے بھاگے۔ جس دن وہ اس شہر میں داخل ہوئے وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ پیشمرگاہ موجود ہے۔ ہم موصل کو آزاد کروا لیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مگر ان فوجیوں کا دشمن طاقتور ہے اور اس نے گذشتہ چند ماہ میں عراقی فوج سے بہت سے ہتھیار بھی چھین لیے ہیں۔
ریت کی بوریوں میں چھپی ایک چوکی تک جب ہم گئے تو ہم شدت پسندوں سے تقریباً آدھا میل دور تھے۔ ہمارے پہنچنے کے پانچ منٹ میں ہی ادھر سے ردعمل آ گیا اور دو مارٹر گولے داغے گئے۔ جلد ہی ہمیں لوٹنا پڑا کیونکہ کردوں نے دولتِ اسلامیہ کے ریڈیو پر ہمارے بارے میں ہونے والی بات چیت سن لی تھی۔
اس مقام سے تھوڑے فاصلے پر ہم نے ایک نئی رضاکارانہ فورس کی تیاری کا عمل دیکھا۔ اس میں موصل کو آزاد کروانے کے خواہاں مرد تھے۔ یہاں سنّی عرب، شیعہ عرب اور کرد ایک ہی صف میں مارچ کر رہے تھے۔ مگر ان کے پاس لڑنے کو کیا، تربیت کے لیے بھی ہتھیار ناکافی تھے۔
ان کے کمانڈر جنرل محمد یحیٰ الطالب کہتے ہیں کہ انھیں موصل آزاد کروانے میں مدد چاہیے۔ وہ شہر بنیادی طور پر سنّی علاقہ ہے اور اس لیے انھیں عراق کی طاقتور شیعہ ملیشیا سے مدد نہیں چاہیے۔
جنرل محمد یحیٰ الطالب کہتے ہیں کہ وہ ملیشیا ہم سے اور ہمارے خاندان والوں کے قریب ہیں مگر ان میں ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جنھیں فساد پسند ہے اور ان میں فرقہ وارانہ نفرت ہے۔
جنرل یحیٰ کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ مسائل نے موصل کی آزادی کے آپریشن کو ملتوی کیا ہے۔ اور ان کی شکایت ہے کہ بغداد میں شیعہ حکومت نے ان کے کیمپ کی مالی امداد روکی ہوئی ہے۔یہاں موجود ہتھیار موصل کے سابق گورنر عتھیل نجفی نے دیے ہیں۔
یہاں خدشہ یہ ہے کہ بغداد میں حکومت کے لیے موصل کو آزاد کروانا ترجیح نہیں ہے اور ان کا دھیان اس وقت رمادی کو آزاد کروانا ہے جو بغداد کے زیادہ قریب ہے۔
ادھر محاذ سے دور کرد شہر ایبرل میں ہماری ملاقات ایک ایسے اہلکار سے ہوئی جو فروری میں موصل سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد یہ اہلکار جعلی شناختی کارڈ اور رشوتوں کے پیسے لے کر وہاں سے بھاگ آئے تھے۔ اب بھی ان کے رشتے دار وہیں ہیں اسی لیے ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو علاقے میں بے جا سزائے موت پاتے دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ دو فروری سے دس جون کے درمیان انھوں نے اپنی آنکھوں سے کم از کم 140 سے 150 لوگوں کو مرتے دیکھا ہے۔
’وہ بے گناہ لوگوں کو زنا کا الزام لگا کر پتھراؤ کر کے مار دیتے ہیں۔ ہم جنس پرستی پر وہ کسی بھی عمارت کی پندرہوں یا بیسویں منزل سے انسان کو نیچھے پھینک دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو پھانسیاں دیتے ہیں، چوری پر ہاتھ کاٹ دیتے ہیں۔‘
’میرے بھائی کے پاس ایک ریسٹورنٹ ہے جو کہ ابھی زیرِ تعمیر تھا۔ اگر دولتِ اسلامیہ کو نظر آ جائے کہ کسی کے پاس پیسے ہیں تو وہ تعاوان مانگتے ہیں۔ جب میرے بھائی کے پاس تعاوان کے لیے پیسے نہیں تھے تو انھوں نے دو دن کے بعد اسے مار دیا۔ اس کے چار بچے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ابھی ان کے دو بھائی اور ایک بھتیجہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہر وقت یہ خدشہ ہے کہ ابھی کسی کا فون آئے گا کہ تمھارے بھائی کو مار دیا ہے۔







