عراق میں خطرناک، غیر یقینی صورتحال کی گتھی

ان واقعات کا سلسلہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کے دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلے جانے سے ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنان واقعات کا سلسلہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کے دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلے جانے سے ہوتا ہے

ایک سال قبل عراق خطرناک اور غیر یقینی صورتحال سے اس وقت گزرا جب موصل دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ دولت اسلامیہ جو عراقی فوج کی کمر توڑ کر اپنے ظالمانہ اقدام سے فرقہ وارانہ اور قومیت پر مبنی شعلوں کو بھڑکا کر ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کررہی ہے۔

ان واقعات کا سلسلہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کے دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلے جانے سے ہوتا ہے۔ جس کے بعد سے عراق کی سالمیت اور مختلف نسلوں اور فرقے کے افراد کا متحد ہو کر اُن سے لڑنے کے خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔

ایک سال قبل بے نتیجہ پارلیمانی انتخابات کے بعد عراق میں نئی حکومت بنانے پر ڈیڈلاک برقرار تھا۔ سابق وزیراعظم نور المالکی تیسری بار منتخب ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انھیں منقسم پالیسیوں جن کا فائدہ شیعہ اکثریت کو تھا اور سنی آبادی ان سے محروم تھی کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے 2014 کے آغاز میں ہی شام اور سنی عراقی صوبے انبار میں اپنے قدم جما لیے تھے۔ نو جون کی رات دولت اسلامیہ نے قتل عام کا آغاز کرتے ہوئے موصل کو خالی کرایا اور نینوا صوبے پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد وہاں سے صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پہنچے جو بغداد سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

جس طرح رمادی میں دولت اسلامیہ کے جنگجو داخل ہوئے اور عراقی آرمی وہاں سے نکل گئی اس سے موصل کی ہار کی یاد تازہ ہوگئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجس طرح رمادی میں دولت اسلامیہ کے جنگجو داخل ہوئے اور عراقی آرمی وہاں سے نکل گئی اس سے موصل کی ہار کی یاد تازہ ہوگئی

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے بڑی تعداد میں چھوڑ کر جانے والے عراقی فوجیوں کا اسلحہ قبضے میں لیا، کروڑوں ڈالر بنکوں سے لوٹے، سینکڑوں شدت پسندوں کو جیلوں سے آزاد کرایا اور ظالمانہ طریقے سے لوگوں کے سر قلم کیے۔

چند دنوں میں کچھ خطرناک واقعات پیش آئے۔ کردوں نے تیل سے مالامال شہر کرکوک پر قبضہ کیا اور بہانہ یہ بنایا کہ وہ دولت اسلامیہ سے اس شہر کی حفاظت کریں گے۔ کرد اس شہر کو اپنا تاریخی دارالحکومت مانتے ہیں اور اس قبضہ سے ان کے خودمختاری کے تاریخی عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ دولتِ اسلامیہ کو چند سنی قبائل کی ملیشیا اور صدام کے وفاداروں کی حمایت حاصل تھی جس کے بعد عراقی حکومت صرف ایرانی تربیت یافتہ شیعہ ملیشیا پر بھروسہ کر سکتی تھی۔ اس سب کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

عراقی حکومت صرف ایرانی تربیت یافتہ شیعہ ملیشیا پر بھروسہ کر سکتی تھی

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنعراقی حکومت صرف ایرانی تربیت یافتہ شیعہ ملیشیا پر بھروسہ کر سکتی تھی

امریکہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرنا شروع کر دیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے سونامی کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کی براہ راست فوجی مدد مالکی کے جانے اور ایک ایسے رہنما کو لانے سے مشروط ہے جو کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عراقیوں کو متحد کر سکے۔

غیر ملکی جہادیوں کی آمد اور دولت اسلامیہ کی مزید پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے خود ساختہ خلیفہ کا اعلان کیا ہوا ہے اور اپنا انتہائی سنی متعصبانہ اور برتر ہونے کا رنگ عورتوں، موصل کے عسائیوں، سنجار کے یزیدیوں، آمرلی کے ترکمانیوں اور یہاں تک کے ان سنیوں کے ساتھ جنھوں نے ان کی مخالفت کی کے ساتھ ظالمانہ رویہ اپنانے اور گرجا گھروں، شیعہ مزارات، موصل اور نمرود کی تاریخی یادگاروں کو تباہ کرنے میں دکھایا۔

اگست 2014 میں مالکی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد حیدر العبادی نے اس وعدے کے ساتھ عہدہ سنبھالہ کہ وہ عراقیوں کو متحد کریں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناگست 2014 میں مالکی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد حیدر العبادی نے اس وعدے کے ساتھ عہدہ سنبھالہ کہ وہ عراقیوں کو متحد کریں گے

اگست 2014 میں مالکی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد حیدر العبادی نے اس وعدے کے ساتھ عہدہ سنبھالا کہ وہ عراقیوں کو متحد کریں گے۔ جس کے بعد امریکی اتحادیوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد ’دولت اسلامیہ کو رسوا کرنا اور شکست دینا تھا‘۔

فوجی حکمت عملی کا دارومدار امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تھا۔ ہوائی طاقت اور انٹیلی جنس کو عراقی زمینی فوجوں کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا۔ عراق کے شمال میں کرد جبکہ وسط اور مغرب میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ عراقی افواج کو تشکیل نو کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے موجود رہیں گے۔

عراق کے محاذ جنگ میں حکومت کی مدد اور دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں تعاون کرنے سے ایران اور امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اتحادی بن گئے ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے عرب سنی اکثریتی ملکوں پر دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کی حمایت کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سنی مظلومیت جسے دولت اسلامیہ پھیلا رہا ہے اور دولت اسلامیہ اور اس کے حامیوں کے ان دعوؤں جن میں ان کا کہنا ہے کہ سنیوں کے خلاف شیعوں کی جنگ مغربی ممالک نے شروع کی ہے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

تاہم ان عرب سنی ممالک کو جہاں دولت اسلامیہ سے لڑنے کا خطرہ لاحق ہے وہیں انھیں اپنے ہی درمیان موجود سخت گیر سنیوں کی جانب سے شدید ردعمل کا بھی خوف ہے۔

نو جون کی رات دولت اسلامیہ نے شدید قتل عام کا آغاز کرتے ہوئے موصل کو خالی کرایا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننو جون کی رات دولت اسلامیہ نے شدید قتل عام کا آغاز کرتے ہوئے موصل کو خالی کرایا

رواں سال مارچ میں عراقی افواج اور ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا نے تکریت میں دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں کا آغاز کیا اور یہ حملے تب تک جاری رہے جب تک امریکہ نے فضائی حملوں سے مداخلت کرکے دولت اسلامیہ کے قدم اکھاڑ نہیں دیے۔

کچھ کے خیال میں تکریت میں جیت موصل پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے پہلا قدم تھا لیکن چند ہی ہفتوں بعد دولتِ اسلامیہ نے مغربی صوبے انبار میں ایک اور زبردست پیش قدمی کر کے صوبائی دارالحکومت رمادی پر قبضہ حاصل کر لیا۔

جس طرح رمادی میں دولت اسلامیہ کے جنگجو داخل ہوئے اور عراقی آرمی وہاں سے نکل گئی اس سے موصل کی ہار کی یاد تازہ ہوگئی۔ رمادی پر قبضے سے دولت اسلامیہ کے خلاف حکمت عملی پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں اور عراقی فوج کے دوبارہ موثر ہونے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اپنی حکمت عملی وسیع کر رہے ہیں اور عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو عراقیوں کو دولت اسلامیہ کے خلاف متحد کرنے اور عراق کے خاتمے کی خبروں کو نظر انداز کرنے کا مسلسل کہہ رہے ہیں۔

لیکن کیا وہ اس گتھی کو سلجھا پائیں گے؟